اسلام آباد(این این آئی)پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے درمیان FATF ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے حتمی مذاکرات آسٹریلیا میں شروع ہوگئے ہیں۔ گورنر سٹیٹ بینک ،نیکٹا، ایف بی آر، ایس ای سی پی، فنانشل مانیٹرنگ حکام وفد میں شامل ہیں۔پاکستان کی جانب سے بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ڈرگ اینڈ کرائم کے تعاون سے نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ شروع کردی گئی ہے اور منی لانڈرنگ و ٹیررازم فنانسنگ کے حوالے سے کی جانیوالی کارروائیوں سے متعلق آگاہ کیا گیا، FATF کے وفد میں شامل ایشیا پیسفک گروپ(اپی جی)کی جانب سے ٹیررازم فناسنگ میں ملوث عناصر کو سزائیں دینے پر زور دیا جارہا ہے ، پاکستان نے 26میں سے 22 نکات پر عملدرآمد کے بارے میں رپورٹ پیش کی، مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت گورنر سٹیٹ بینک رضاباقر کررہے ہیں، وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے زیادہ پیشرفت کی ہے اس لیے توقع ہے نومبر میں اچھی خبر آئیگی اور پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں تو شامل نہیں ہوگا اور گرے لسٹ سے نام نکالے جانے کے بھی امکانات ہیں۔FATF کو ٹیرر فناسنگ اور ٹیررازم میں مبینہ طور پر ملوث تنظیموں ،افراد کیخلاف کارروائی ، حافظ سعید ، متعددمدارس کے حوالے سے بتایاگیا، بیئرر سرٹیفکیٹس اور بیئرر انعامی بانڈز ختم کرنیکی شرط پر عمل کیا گیا،40 ہزارمالیت کے انعامی بانڈز کی رجسٹریشن پرفیٹف نے اطمینان کا اظہار کیاہے ، ادھرنیکٹا کی جانب سے فراہم فہرست اور تفصیلات کی تصدیق آخری مراحل میں ہے ، ٹیرر فنانسنگ، منی لانڈرنگ کے حوالے سے 37 افرادکیخلاف کارروائی جاری ، وکلا ،چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ودیگرکی مانیٹرنگ و نگرانی کا میکنزم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔