ین اے 75ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی امیدوار سیدہ نوشین افتخار پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی سے 19201ووٹ زیادہ حاصل کر کے کامیاب ہو گئیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس لحاظ سے یہ ایک صاف شفاف الیکشن تھا اور اس بار ماضی کے برعکس کوئی ایسی بد نظمی یا دھاندلی بھی دیکھنے میں نہیں آئی جس کی وجہ سے یہ الیکشن فروری سے تنازعات کا شکار رہا اور معاملات عدالتوں تک پہنچے۔ دونوں پارٹیوں کے امیدواروں میں فتح و شکست کے درمیان ووٹوں کا فرق بظاہر بہت زیادہ نہیں ہے تاہم شکست خوردہ پارٹی کو اپنی ناکامی کی وجوہات اور اس کے عوامل کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔موجودہ تبدیل شدہ صورتحال میں مہنگائی کا ایک اہم کردار ہے،مہنگائی کا دور دورہ اگر اسی طرح چلتا رہا اور اس پر قابو پانے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ صورتحال بلدیاتی ا نتخابات میں حکومتی پارٹی کے نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لہٰذا مہنگائی کے توڑ کے لئے حکومت کو فوری عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ضمنی الیکشن میں جس طرح دونوں پارٹیوںکی طرف سے تحمل و برداشت اور انتخابی عملہ کی جانب سے فرض شناسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے ، وہ قابل تعریف ہے ۔یہ انتخابی و سیاسی رویے اور جذبے مستقبل میں بھی برقرار رہنے چاہئیں تاکہ ملک میںہونے والے تمام انتخابات پر امن فضا میں منعقد ہوں اور کسی فریق کو بھی دوسر ے پر الزام تراشی کا موقع نہ ملے۔