تاریخ تو یاد نہیں‘ اتنا یاد ہے گندم کی فصل زیر کاشت تھی جب ایک مختصر ملاقات میں‘ میں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تجویز پیش کی کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا جائے اور زیادہ نہ سہی‘ کم از کم سولہ سو روپے فی من ضرور مقرر کی جائے تاکہ کسان کی حوصلہ افزائی ہو اور ملک گندم آٹے کے بحران کا شکار نہ ہو‘ موقع پر موجود صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک نے میری تائید کرتے ہوئے سولہ سوسے بھی زیادہ امدادی قیمت کا مطالبہ کیا‘ مگر وزیر اعلیٰ نے کہا چودہ سو روپے مناسب ہے‘ کھڑے کھڑے بات چیت میں بحث مباحثے کی گنجائش ہوتی ہے نہ مفت مشورے کی اہمیت‘ سو چپ رہا کہ جس شخص کو کوئی اہم بات آرام سے بیٹھ کر سننے کی فرصت نہیں‘ اس پر سر کھپانا فضول ہے‘ پچھلے سال دسمبر میں ہی واضح تھا کہ اگلا سال گندم آٹے کے بحران کا سال ہے‘ کھادوں‘ زرعی ادویات‘ زرعی آلات کی مہنگائی‘ گندم کی اخراجات کے مقابلے میں کم امدادی قیمت اور بے وقت بارشوں کے باعث جس بحران کی توقع ستمبر اکتوبر میں تھی وہ کٹائی اور گہائی کے فوری بعد مئی جون میں امڈ آیا۔ ایک زرعی ملک میں جو برس ہا برس سے گندم کی پیداوار میں خودکفیل چلا آ رہا تھا‘ عام آدمی مہنگے آٹے کے لئے خوار ہوا۔ اب روس سے مہنگی گندم درآمد کر کے عوام کو سستے داموں آٹا فراہم کرنے کی تدبیر کی جا رہی ہے لیکن سبق حکومت نے پھر بھی نہیں سیکھا۔ حکومت نے پہلے تو حاتم طائی کی قبر پر لات ماری۔ گندم کی قیمت سولہ سو روپے مقرر کی مگر پھر سندھ حکومت کی طرف سے دو ہزار روپے فی من قیمت مقرر ہونے کے بعد پچاس روپے فی من اضافے کا فیصلہ کر لیا‘ بجا کہ شہری صارفین کے نقطہ نظر سے دو ہزار روپے فی من نرخ زیادہ ہیں لیکن شہری صارفین کی قوت خرید کے حوالے سے ساری حساسیت گندم اور چینی کے متعلق کیوں؟ کیا بجلی‘ گیس پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیائے ضرورت کے نرخوں میں ہر ماہ اضافہ کرتے وقت ہمارے شہری بابو اور حکمران سوچنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں؟۔ ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر قیمتیں نہ بڑھائی گئیں تو ادویات کی قلت ہو گی اور عوام کی مشکلات بڑھ جائیں گی لیکن ملک کی ستر فیصد آبادی کو ان کی پیداواری لاگت اور محنت مشقت کا صلہ دیتے ہوئے ہمارے ماہرین اور حکمرانوں کو شہری طبقے کی یاد ستانے لگتی ہے اور عجیب و غریب دلائل تراشے جاتے ہیں۔ بلا شبہ شہری طبقات خاص طور پر نچلے متوسط اور غریب کو اشیائے خورو نوش کی آسان اور ارزاں فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اشیائے خورو نوش کی گرانی معاشرے میںاضطراب و اشتعال کو جنم دیتی ہے لیکن بیس کروڑ عوام کو غذائی تحفظ فراہم کرنے والے کسان اور کھیت مزدور بھی بہتر انسانی سہولتوں کے مستحق ہیں اور قومی خوشحالی ان کی ترقی و اطمینان قلب سے جڑی ہے‘ تصور کیجیے کہ عشروں سے صنعتی و تجارتی شعبے کو مختلف حکومتوں کی طرف سے جو مراعات دی گئیں ‘کسی نہ کسی بہانے زرتلافی ملتا رہا اور ان کے جائز و ناجائز مطالبات کی پذیرائی ہوتی رہی اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ عوام کی زندگی میں آسودگی لانے اور ریاست کو خود کفالت کی راہ پر ڈالنے کے لئے اس شعبے کا کردار کیا رہا ؟جبکہ ملک کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے اور اقتصادی و معاشی بحرانوں کے موقع پر شہریوں کو دو وقت کی روکھی سوکھی فراہم کرنے کے لئے زرعی شعبے نے کیا کچھ کیا؟ فواد چودھری جب یہ کہتے ہیں کہ گاجر مولی اور ٹماٹر برآمد کر کے ہم ترقی نہیں کر سکتے تو کسی نہ کسی حد تک درست کہتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انجینئرنگ اور سائنس و ٹیکنالوجی کا شعبہ قوم کی توقعات پر پورا نہیں اترا‘ہزار اختلاف کے باوجود فواد چودھری نے سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کو فعال کیا ہے لیکن پاکستان آج تک زرعی شعبے کی وجہ سے تن و روح کا رشتہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا اور برآمدات میں بھی زرعی شعبہ معاون ثابت ہوا۔ موازنہ مطلوب نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں کرپشن کا بازار صنعت و تجارت سے وابستہ بعض افراد اور خاندانوں کے سیاسی میدان میں داخلے کے بعد گرم ہوا اور قومی وسائل کی بیرون ملک منتقلی‘ دہری شہریت کے بیج بھی اسی طبقے نے بوئے‘ دھرتی سے جڑا کسان ہو یا بڑا زمیندار وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اپنی خون پسینے کی کمائی بیرون ملک منتقل کر کے باپ دادا کی نیک نامی کو بٹہ لگائے البتہ زمینداروں میں اپنا نام لکھوانے والے نودولتیوں کا معاملہ مختلف ہے۔ محنت اور ریاضت سے ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کرنے والے حقیقی تاجر و صنعت کار ایسا نہیں سوچتے اور تلاش روزگار کے لئے بیرون ملک جا بسنے‘دوہری شہریت اختیار کرنے والے بھی قابل معافی کہ ریاست ماں انہیں اپنی گود میں رزق حلال اور آسودگی کی نعمت فراہم نہ کر سکی۔ خیر یہ دوسری بحث ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں عروج اور اقوام عالم سے مسابقت کے لئے بھی زرعی شعبے کی ترقی و استحکام ضروری ہے کہ دھرتی سے جڑے کھیت مزدور ‘کسان اور زمیندار کا ذہین بچہ ہی اعلیٰ تعلیم کے مراحل طے کرنے کے بعد قومی خدمت کے جذبے سے ایجاد و اختراع کے سنگ میل عبور کریگا اور شہروں میں بسنے والے غریب و متوسط طبقے کے ہونہار بھی اسی صورت میں ڈاکٹر عثمانی‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان‘ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ڈاکٹر بشیر الدین محمود کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کریں گے کہ وہ آٹے چینی‘دال سبزی کے لئے غیروں کے محتاج نہ ہوں‘ ریاست انہیں مواقع فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ جس ریاست کی سوچ اور تگ و دو کا محور عوام کو سستے آٹے اور چینی کی فراہمی کے لئے وسائل کا حصول رہے‘ وہ تعلیم‘ صحت اور انسانی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کا وقت کب نکالے گی۔ گندم کی کم از کم امدادی قیمت اٹھارہ سو روپے مقرر کرنے کے علاوہ دیگر اجناس بالخصوص کپاس کے حوالے سے پائیدار حقیقت پسندانہ حکمت عملی وضع کرنا ہی وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ برآمدات کے اہداف پورے کرنے میں زرعی شعبہ مددگار ہے اور انسانی ترقی کے لئے بھی وسائل کا رخ دیہی علاقوں کی طرف موڑنا ازبس لازم۔اپنے کسانوں کو نظرانداز کر کے امریکہ‘ روس اور دیگر ممالک کے کاشتکاروں کی جیب بھرنا عقلمندی نہیں۔ عمران خان یہ کام ان مشیروں کی مدد سے ہرگز نہیں کر سکتے جو انہیں گندم اور چینی کے بحران سے بروقت آگاہ کرنے سے قاصر رہے اور اب بھی پائیدار حل پیش کرنے کے قابل نہیں‘ پٹرولیم بحران‘ گندم و آٹا بحران ادویات اور چینی بحران کے ذمہ دار ایک شخص کو بھی آج تک کوئی سزا ملی نہ قوم کو اس بات کا یقین کہ دوبارہ یہ بحران سر نہیں اٹھائے گا۔صادق نسیم ایسا سرکاری افسر جس نے حکومت کو بروقت گندم بحران سے آگاہ کیا آٹا بحران کی بھینٹ چڑھ گیا اور حقیقی مجرم ‘ذمہ دار تالیاں بجاتے رہے‘پچھلے سال گندم کی مناسب امدادی قیمت مقرر کرنے میں ناکام وزیر‘ وزراء اعلیٰ اور مشیر ایک بار پھر عمران خان کو گمراہ کر رہے ہیں‘ خدا نہ کرے کہ اگلے سال پھر قوم آٹے چینی کی قلت و مہنگائی اور حکومت برآمدات پر اربوں ڈالر کے اخراجات کا سامنا کرے‘آثار مگر یہی ہیں۔