غضب کی چمک اس کے چہرے پہ تھی مجھے کیا خبر تھی وہ مر جائے گا احمد مشتاق کی بات اپنی جگہ مگر کچھ لوگ مرتے نہیں دوسروں کو مار جاتے ہیں۔ یہ بھی اپنی جگہ درست کہ جانے والے ٹوکویں ہندسوں کی طرح ہوتے ہیں کہ کب کسی کا نمبر لگ جائے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ کہ جواں مرگ سب کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ میں نے اس کو ابھی قومی کانفرنس میں دیکھا۔ وہ زندگی سے بھر پور اور توانائی سے سرشار نظر آتا تھا۔ چھوٹی سی عمر میں منزلیں مارتا ہوا کہ ڈاکٹریٹ بھی اس نے کر لی تھی۔ میں نے اسے کہا یار!یاسر تم تو ننھے منے ڈاکٹر ہو۔ وہ ویسے بھی بہت فعال تھا کہ اکادمی کی ذمہ داریاں اور پھر ادب و شاعری کے حوالے سے وہ یکسو تھا۔ وہ صحیح معنوں میںAmbitious تھا اورPromising ۔وہ مجھے اور قمر ریاض کو ضد کر کے اپنی تنظیم کے مشاعرے میں لے گیا کہ ہم تو کانفرنس میں آئے ہوئے تھے۔ آج میں نے موبائل آن کیا تو اس میں پوسٹیں بارش کی طرح گرنے لگیں۔ وہ واقعتاً محبوب نوجوان تھا احترام کرنے والا۔ قمر ریاض کے پاس ہوٹل میں ہم نے اکٹھے وقت گزارا ابھی قمر ریاض کی پوسٹ میرے سامنے ہے جس میں علی یاسر کا اپنا شعر ہی درج ہے: مجھے روک لو میں چلا گیا تو چلا گیا کسی طور پھر میں تمہارے بس میں نہ آئوں گا ہائے ہائے وقت گزر جاتا ہے اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ کیا کیا ساتھ لے گیا۔ وہ سامنے کی تصویر میں قمر ریاض ناصر بشیر سلمان جاذب اور راقم کے ساتھ کس قدر ہشاش بشاش اور ترو تازہ کھڑا ہے۔ یہ دنیائے رنگ و بو اور جہان آب و گل میں انسان کے لئے کتنی بے یقینی رکھی گئی ہے کہ سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں‘ایک ہچکی میں دوسری دنیا۔سعدؔاتنی سی بات ساری ہے‘دوستوں نے غالب کے اشعار لکھے ہیں جو کہ جوانمرگ عارف کا نوحہ ہے: جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشہ کوئی دن اور اسیر عابد نے دوسرے شعر کو پنجابی میں ڈھال کر زیادہ قابل فہم بنا دیا تھا: چناں توں تے چوہدویاں دا چن سی میرے گھر دا اوہ وی تے کڈھ جاندا اے‘جاندا جاندا ہور دیہاڑے شاہین مفتی نے اچھا کیا کہ اس بے بہا نوجوان کا تعارف لکھ دیا کہ وہ 13دسمبر 1976ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوا۔1994ء میں ملازمت کے سلسلہ میں اسلام آباد گیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا تھا علامہ اقبال یونیورسٹی سے ایم فل اور پی ایچ ڈی ہوا۔ ان دنوں وہ اکادمی ادبیات اسلام آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھا۔ میں نے بتایا کہ وہ ہر وقت مصروف نظر آتا تھا کہ شاید اسے بہت جلدی تھی۔سب کچھ جلد جلد کر لینا چاہتا تھا۔ اس کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ارادہ کے نام سے 2007ء میں آیا اور دوسرا غزل بتائے گی‘2016ء میں۔ اس نے کچھ تراجم بھی کئے اور کچھ اہل قلم ڈائریکٹری کا کام بھی۔ جب ہم کشمیر اردو کانفرنس میں گئے تو وہ ہمارے ساتھ تھا۔ علی یاسر کو گزشتہ شب برین ہمبرج اٹیک ہوا اور وہ ادبی دنیا کو اداس کر گیا۔رحمن حفیظ نے بھی علی یاسر کا ایک شعر درج کیا ہے: اسے میں غنچہ دل میں اسیر کیسے کروں حیات باد صبا ہے اور آنی جانی ہے معزز قارئین:آپ اس جواں مرگ شاعر کا ایک شعر دیکھ لیں: حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے کسی اور نے بھی غالب ہی کے شعر میں تصوف کر کے لکھا ہے: ہاں اے فلک پیر جواں تھا علی یاسر کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور کوئی کیا کر سکتا ہے یہ مشیت ایزدی ہے۔ وقت تو مقرر ہے نہ کوئی ایک سانس زیادہ لے سکتا ہے اور نہ کم۔ بس یہی بات ہے جو انسان کی تسلی کے لئے ہے۔ بہرحال وہ جتنا بھی رہا آسمان ادب پر ستارا بن کر چمکا۔ کتنے دوست ہیں جو اس کو یاد کر رہے ہیں۔ ان کے الفاظ میں غم ہے جو محبت سے کشید ہے۔اسلام آباد کی فضائوں میں یقینا ایک سوگوار ہی ہے۔ مجھے تو کافی دیر تک یقین ہی نہیں آیا کہ شاید کسی اور کے بارے میں ہے۔ پھر یوں لگا: ابھی بہار کا نشہ لہو میں رقصاں تھا کف خزاں نے ہر اک شے کے ہاتھ پیلے کیے آہستہ آہستہ جدائی کا احساس بڑھتا ہے تو بہت سی باتیں یاد آنے لگتی ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ علی یاسر محبت سے بھرا ہوا شخص تھا۔ اس نے سب کو اپنا گرویدہ کر لیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ مجھ سے میرا شعری انتخاب مانگتا رہا اور میں اس کی طلب کو سنجیدہ نہیں لے رہا تھا۔ پھر قمر ریاض کے حوالے سے قریب آیا کہ اپنے اخلاق کے باعث وہ میرے دل میں گھر کر گیا۔اس کی محبت کے حوالے سے خود اس کی اپنی ایک غزل کے اشعار پڑھیں اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کریں: ثبوت عشق جمال یقیں محبت ہے مری سرشت میں دھوکہ نہیں محبت سے گل خلوص مہکتا ہے میری صورت میں مرا مزاج‘مری سرزمیں محبت ہے سب اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں یہاں مرے خیال میں سب سے حسیں محبت ہے میں اس کے دل میں اتر کر تلاش کر بھی چکا میں جانتا تھا یہیں پر کہیں محبت ہے اسے غروریونہی تو نہیں یاسر وہ میرا خواب مری اوّلیں محبت ہے