مکرمی! میں آپ کے مؤقر جریدے کی وساطت سے صدراسلامی جمہوریہ پاکستان، گورنر صوبہ خیبرپختونخوااوروائس چانسلر یونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی بنوںکی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں اُمیدواثق ہے کہ پہلی فرصت میں ہنگامی بنیادوں پراقدامات اُٹھائیں گے۔ دورحاضرکی کمرتوڑمہنگائی کی وجہ سے یونیورسٹی ہذاکی بھاری بھرکم فیسوں کی ادائیگی عام آدمی کی بس کی بات نہیں ۔میرے کئی دوست جو برسرروزگار نہیں، فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے یونیورسٹی میں پڑھنے کوخیربادکہہ چکے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی فیس جو 2000 ہزارروپے فی سمسٹر ہیںاورہرطالب علم سے وصول کئے جاتے ہیںچاہے وہ یونیورسٹی کی گاڑی میں جائے یانہ جائے فدوی سمیت کئی سٹوڈنٹس کے گھر یونیورسٹی کے اَس پاس ہی ہیں، اِس کے باوجود بھی اُن سے ٹرانسپورٹ کی چارجر وصول کی جاتی ہے ۔اِس کے علاوہ ہر سمسٹر میں ہر طالبعلم سے 1000 روپے الیکٹرک سٹی چارجز وصول کئے جاتے ہیں ۔ حالانکہ فدوی کی کلاس روم میں صرف چھت کے دو پنکھے لگے ہوئے جن کا استعمال سردیوں کے موسم میں نہیں ہوتا اسی طرح ہر سمسٹرمیں ہرطالب علم سے 300 روپے سپورٹس کی مدمیں وصول کئے جاتے ہیںخواہ وہ یونیورسٹی میں کھیلنا چاہتاہویانہیں۔اَب یہ درخواست اس عرض سے پیش خدمت ہے کہ آپ کے یونیورسٹی میں بہت سے بے کس،بے سہارا اور غریب طلباء پڑھنے کیلئے آتے ہیں جن کامخلوق خدا میں آپ لوگوں کے سوا داد رسی والاکوئی اور نہیں۔ لہٰذا اِس درخواست کوفقط کاغذکاایک ٹکڑاسمجھ کرردی کے ٹھوکری میں پھینکنے کی بجائے ایک فریاد،ایک التجا اور ایک آہ ہی تصور کر کے غیرضروری اور ناجائز فیسوں پر نظرثانی کیجئے ۔ ( شہاب سورانی ،بنوں)