ہارون آباد کے ایم پی اے ڈاکٹر چودھری مظہر اقبال نے پنجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران بہاولنگر سے سوتیلی ماں کا سلوک کر رہے ہیں اور بجٹ میں پورے ضلع بہاولنگر کیلئے کوئی سکیم نہیں، انہوں نے کہا کہ اہالیان بہاولنگر کی مرضی اور رضا مندی کے بغیر اُن کو صوبہ جنوبی پنجاب کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ محرومیوں کا ذمہ دار کون ہے؟ ڈاکٹر صاحب (ن) لیگ کے دور میں کیوں خاموش رہے؟ جب اُن کا پورا خاندان برسراقتدار تھا، آج تو ہارون آباد کے ایم این اے چودھری نور الحسن صاحب بھی محرومی کی بات کر رہے ہیں مگر وہ اُس وقت کیوں خاموش رہے جب وہ دبئی میں میاں برادران کے میزبان ہوتے تھے ۔ وہ چاہتے تو شریفوں کے دور میں سب کچھ کرا سکتے تھے۔ جہاں تک بہاولنگر کو نظر انداز کرنے کی بات ہے تو ڈاکٹر مظہر اقبال صاحب آج بات کر رہے ہیں میں عرصہ دراز سے لکھ رہا ہوں اور اُس وقت سے لکھ رہا ہوں جب ڈاکٹر مظہر صاحب کے والد چودھری عبدالغفور صاحب جنرل ضیاء الحق کے منظور نظر تھے اور جب وہ (ن) لیگ کے ایم این اے اور وزیر بھی رہے اُن کے بھائی چودھری اظہر اقبال صاحب سنیٹر اور چیئرمین ضلع کونسل رہے، سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے تو میں نے ہی لکھا تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی کو صرف ملتان پر فوکس نہیں کرنا چاہئے کہ میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف پر ہمارا سب سے بڑا اعتراض یہی رہا ہے کہ وہ صوبے کے وزیر اعلیٰ اور ملک کے وزیر اعظم بننے کے باوجود بھی اُن کے کام صرف میئر لاہور والے ہیں، اسی طرح سردار عثمان بزدار کی حکومت آئی ہے تو میں نے ہی لکھا کہ وہ صرف بار تھی، تونسہ یا ڈی جی خان کو صوبہ نہ سمجھیں بلکہ بہاولنگر سمیت تمام محروم اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے کام کریں۔ دوجون 1818ء سے پہلے صوبہ ملتان الگ اور صوبہ لاہور الگ تھا، رنجیت سنگھ نے بدمعاشی کے بل بوتے پر صوبہ ملتان پر قبضہ کیا اور 1849ء میں انگریز سامراج نے ملتان کی صوبائی حیثیت ختم کرکے اسے پنجاب کا حصہ بنا دیا، کیا اُس وقت صوبہ ملتان والوں کی رضا مندی حاصل کی گئی تھی؟ کوئی الیکشن ، ریفرنڈم یا لوگوں کی رائے کا کوئی دوسرا فورم استعمال ہوا تھا؟ آگے چلئے 1954ء کو ون یونٹ بنایا گیا اور ریاست بہاولپور بھی ون یونٹ کا حصہ بنا دی گئی ، 1969ء میں یحییٰ خان نے ون یونٹ توڑا مغربی پاکستان کے صوبے بحال ہوئے، ایک نیا صوبہ بلوچستان بھی وجود میں آیا تو اُس وقت سابقہ صوبہ ملتان بحال نہ ہوا ، البتہ ریاست بہاولپور کو بھی پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا، جس پر ہنگامے پھوٹ پڑے؟ چودھری صاحب اُن کے بھائی اور والد صاحب (ن) لیگ کے دور میں برسراقتدار رہے اُن کی پانچوں گھی میں تھیں، میرا اُن سے سوال ہے کہ وہ اُس وقت کیوں خاموش رہے ضلع کونسل بہاولنگر کے فنڈ لاہور پر خرچ ہو رہے تھے؟ جب (ن) لیگ کے دور میں بہاولنگر سے قدم قدم پر زیادتیاں ہو رہی تھیں، ہاکڑہ کینال کو منظور شدہ پانی نہیں مل رہا تھا، بہاولنگر ٹیکس فری انڈسٹریل زون کا منصوبہ کینسل کر دیا گیا۔میں برملا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ موصوف اور اُن کے والد (ن) لیگ میں ایسے کھڑے تھے بقول شاعر ہم موجود تھے تیری محفل میں مگر جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کیساتھ بہاولنگر ٹرین کا ذکر آیا ہے تو عرض کروں کہ بہاولنگر سے بزرگ صحافی چودھری خالد صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کے کالم توجہ سے پڑھ رہے ہیں ہم شکر گزار ہیں کہ آپ بہاولنگر کی محرومیوں پر قلم اٹھاتے ہیں میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ سمہ سٹہ تا امروکا اور بہاولنگر تا فورٹ عباس ریلوے لائن ایک قدیم ریلوے ٹریک ہے جو کہ کسی زمانے میں برصغیر پاک و ہند کی مین لائن تصور کی جاتی تھی اور اس ٹریک پر 8 سے 10 ٹرینز بشمول گڈز ٹرینز، رواں دواں تھیں لیکن اس وقت بدحالی کا شکار ہے اور 2011ء سے بند پڑی ہے اربوں کھربوں کی لاگت سے تیار شدہ ٹریک اور ریلوے عمارات بوسیدہ اور کھنڈرات کا نظارہ پیش کر رہی ہیں۔ اس ٹریک کیلئے یہ جگہ ریاست بہاولپور کے نواب نے ریلوے کو بلا معاوضہ تحفہ میں دی تھی اور پاکستان ریلوے نے انکی خدمات کا صلہ اس مد میں دیا کہ اس سیکشن پر چلنے والی ٹرین 317پ اور 318 ڈائون کو بھی بند کر دیا گیا۔ آپ کی توجہ اس طرف دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ شاید کہ دل میں اتر جائے میری بات، بہاولنگر، چشتیاں، ہارون آباد، فورٹ عباس، حاصل پور و دیگر گردو نواح کے علاقہ جات کے رہائشیوں کے عزیز و اقارب صوبہ سندھ حیدر آباد، کراچی میں مقیم ہیں اور تقریباً 17 سے اٹھارہ بسیں ان علاقہ سے سندھ رواں دواں ہیں جبکہ اس سیکشن پر ریلوے ٹریک ویران پڑا ہے کیوں اس طرف توجہ نہ دی جا رہی ہے، اگر اس سیکشن میں امروکا تا کراچی کیلئے ایک اَپ ڈائون ٹرین چلا دی جائے تو یہ نہ صرف منافع بخش ہو گی بلکہ ویران سیکشن پر چہل پہل بھی بحال ہو جائے گی اور لوگوں کا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔