لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے کہاہے پارلیمانی لیڈرز کانفرنس میں وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کے حوالے سے بریف کیا۔شہبازشریف نے فورم کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر بائیکاٹ کرکے چلے گئے ،انہیں ایسا نہیں کرناچاہئے تھا۔پروگرام نائٹ ایڈیشن میں میزبان شازیہ اکرم سے گفتگو میں انہوں نے کہاہم سب کو ساتھ لے کر چلنے کیلئے تیارہیں کیونکہ یہ وقت سب کو ساتھ لے کرچلنے کا ہے ،حکومت نے جو ریلیف پیکیج دیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا ہمارے لئے یہ وقت بہت مشکل ہے کیونکہ یہاں پر تو کتے کے کاٹنے کی بھی ویکسین نہیں ملتی، ماضی میں شعبہ صحت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،عوام حکومتوں پر نہ رہے اورخود احتیاط کرے ،خدارا مالدار طبقہ آگے آئے اور غریبوں کی مدد کرے ،عمران خان کپتان بن کر دکھائیں،مجھے کل عمران خان آف کلر لگے ، وہ شروع سے ہی غصے میں آگئے ۔ماہر معاشیات ڈاکٹرشاہد حسن صدیقی نے کہاموجودہ پالیسی ریٹ معیشت کیلئے بہت بہترین ہے ، یک دم زیادہ گراوٹ بہتر نہیں ،اگلی مانیٹری پالیسی میں اس میں مزید کمی ہوگی، حکومت کو 35روپے فی لیٹر تیل کی قیمتوں میں کمی کرنی چاہئے تھی۔بیوروچیف اسلام آباد سہیل اقبال بھٹی نے کہا وزارت خزانہ کے حکام نے وفاقی کابینہ کو بائی پاس کرتے ہوئے 7 غیرملکی بینکوں سے اڑھائی ارب ڈالر کا قرض لیاگیا جس کی وفاقی کابینہ سے کوئی منظوری نہیں لی گئی ، وفاقی کابینہ نے اپریل 2019میں لئے گئے قرض کی ایک سال بعد منظوری دی، اب اس قرض پر منافع کی واپسی کا وقت آگیا ہے ، غیرملکی بینکوں کو منافع کی ادائیگی پر ٹیکس کی بھی چھوٹ دی گئی۔ دستاویز کے مطابق دبئی اسلامک بینک سے 225ملین ڈالر ،کریڈٹ سوئس سے 50ملین ڈالر،ایمریٹس بینک سے 500ملین ڈالر،سٹی بینک سے 150ملین ڈالر،کریڈٹ سوئس سے 155ملین ڈالر، دبئی سوئس بینک سے 195ملین ڈالر، عجمان بینک سے 117ملین ڈالر، دبئی اسلامک بینک سے 250ملین ڈالر، چائنہ ڈیویلپمنٹ بینک سے 700ملین ڈالر ا یک اورغیرملکی بینک سے 200ملین ڈالر کا قرضہ لیا گیا۔