ایک ہندو ساہوکار کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا شہر کے معروف ترین بازار کے بیچوں بیچ اچھا خاصا کاروبار تھا۔دکان پہ ہر وقت لوگوں کی ریل پیل رہتی۔ لوگوں سے میل ملاپ اور پوجا پاٹ کے معاملے میں بھی وہ ہمیشہ پیش پیش رہتا۔زندگی بڑی خوشحالی اور بے فکری میں گزر رہی تھی لیکن ایک بات کا دکھ اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا کہ اس کا اکلوتا اور لاڈلا بیٹا کبھی مندر کا رخ نہیں کرتا تھا۔اسی وجہ سے اسے اکثر و بیشتر عزیز و اقارب اور دوستوں کی طرف سے طعن و تشنیع کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف دل ہی دل میں اپنے آزاد خیال بیٹے کو پوجا پاٹ اور مندر بھگوان کی طرف مائل کرنے کے گُر سوچتا رہتا بلکہ گاہے ماہے اس کی فہمائش و سرزنش سے بھی گریز نہ کرتا۔ پھر کبھی اپنی چہیتی بیوی کی وساطت سے اسے سمجھاتا اور کبھی کبھاراس کے قریبی دوستوں کے ذریعے بھی اس پر اثر انداز ہونے کی سعی کرتا رہتا۔ ایک عرصے تک مختلف نوع کی نصیحتوںکا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اپنی کوشش، کاوش اور مستقل مزاجی سے وہ بالآخر پتھر میں جونک لگانے میں کامیاب ہو گیا۔اپنی اس کامیابی پر فرحاں و شاداں وہ ایک دن صبح سویرے بیٹے کے ہمراہ مندر پہنچا، پنڈت جی اس روز گاؤ ماتا کے تقدس ، عظمت اور احترام کے موضوع پر رطب اللسان تھے۔ دونوں اس بھاشن سے بے حد متاثر و مستفید ہوئے۔بیٹے نے وہ ساری باتیں ذہن دھیان کے پلے باندھ لیں ۔ بیٹا جوان تھا ، اپنے بابو جی نصیحتوں کے بعد ہر بات کو سنجیدگی سے لینے لگا۔دین دھرم کی باتوں کو بھی دل کی تختی پر نمایاں حروف سے لکھتا گیا۔اب تو اس نے کاروبار میں بھی بڑھ چڑھ کے باپو کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔والد کو آرام آرام سے آنے کا مشورہ دے کر خود صبح سویرے دکان جا کھولتا۔ایک دن جب ابھی عبادت اور پنڈت جی کے بھاشنوں کا اثر زائل نہیں ہوا تھا، وہ دکان پہ پہنچا۔ دکان کھولتے ہی رنگ برنگی آوارہ گائیوں کا ایک گروہ پھرتا پھراتا، اس کی دکان پہ آ دھمکا۔اس کے دل میں باپو جی نے پوجا کی جوت نہ جگائی ہوتی تو وہ ہمیشہ کی طرح انھیں مار دھتکار کر بازار کی راہ دکھا دیتا لیکن آج تو اس کے دل میں ابھی گاؤ ماتا کا احترام و مرتبہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاگزیں تھا۔دین و دھرم کا رنگ ابھی دنیاداری پر پوری طرح غالب تھا۔ پنڈت جی کے ارشاداتِ عالیہ کے مطابق گاؤ ماتا کو نہ صرف کھلانا پلانا ثواب اور پُن کا کام تھا بلکہ اس کا گوبر سر پہ لگانا اور پیشاب نوشِ جاں کرنا بھی ان کے لیے عین عبادت کا درجہ رکھتا تھا۔لہٰذا جب بھوکی پیاسی گائیں حسبِ عادت و جبلت کھل بنولے، سوجی میدے، حتّٰی کہ گھی شکر اور گری میوے وغیرہ کی جانب لپکیں تو اس ثواب و عقیدت کے درمیان مخل ہونا تو رہا ایک طرف، وہ تو آج باپو کو عبادت کا عملی نمونہ دکھا کے شاباش حاصل کرنے کے احساس سے سرشار ہوتا چلا گیا۔ نتیجہ یہ کہ اشیائے رنگا رنگ سے بھری پُری دکان دیکھتے ہی دیکھتے ، چیل کے گھونسلے سا سماں پیش کرنے لگی۔ بڑے میاں جب سہج سبھاؤ کے ساتھ پوجا پاٹ کی رسوم ادا کرنے اور مزے مزے سے بھوجن و اشنان سے فراغت حاصل کرنے کے بعد دکان پر پہنچے تو بے ترتیب پڑی بے شمار خالی بوریاں اور ہر سُو کھڑکھڑاتے ٹین کے ڈبے ان کا منھ چِڑا رہے تھے۔ پنڈت جی کا بھاشن پوری طرح اپنا رنگ دکھا چکا تھا اور اچھی بھلی دکان پل بھر میں ہمارے ملکی خزانے کا روپ دھار چکی تھی۔ باپ نے اس ویرانی کا سبب دریافت کیا تو فرماں بردار بیٹے نے سب ماجرا کہہ سنایا۔ باپ وہیں سر پکڑ کے بیٹھ گیا اور جب اوسان کچھ بحال ہوئے تو بیٹے کو سخت سست کہنے کے بعد نصیحت کرنے لگا کہ میرے بچے ! مذھب اور دھرم کی باتوں کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دینا صرف مُسلوں کا کام ہے۔ ہم اپنا سارا دین دھرم آتے ہوئے مندر میں چھوڑ آتے ہیں۔ہمارا اصل دھرم کاروبار کے پھیلاؤ اور ذاتی مفادات کی تکمیل میں مضمر ہے۔یہ اخلاقیات، یہ خدمتِ خلق،یہ پُن، یہ سیکولر ازم … ان سب کا پرچار تو ہم صرف دوسروں کے لیے کرتے ہیں۔ سو خواتین و حضرات! اس تمہیدِ طولانی کا مقصد محض یہ ہے کہ ان آخری چند جملوں کو صرف ایک ہندو باپ کی اپنے بیٹے کو نصیحت ہی نہ سمجھا جائے بلکہ ان میں پوری ہندو قوم کی ذہنیت اور کردار کا عکس نمایاں ہے اور اسی کردار و ذہنیت کا مظاہرہ وہ ہمارے ساتھ سال ہا سال سے روا رکھے ہوئے ہیں۔مولانا ظفر علی خاں نے تو تحریکِ آزادی کے دوران ہی پوری ہندو قوم اور ان کے مطلبی، مکار اور نام نہاد لیڈروں کے کردارکی قلعی کھول کر رکھ دی تھی، ایک جگہ وہ فرماتے ہیں: ؎ بھارت میں بلائیں دو ہی تو ہیں، اک ساوکر ہے اک گاندھی ہے اک جھوٹ کا چلتا جھکڑ ہے ، اک مکر کی اٹھتی آندھی ہے چنانچہ تحریکِ آزادی اور تقسیمِ ملک بلکہ ۱۸۵۷ء کے بعد سے ہی قدم قدم پر ان ہندو لیڈروں کی عیاری، مکاری، بد کرداری،بے اصولی،دھونس دھاندلی، وعدہ خلافی، مفاد پرستی، مسلم دشمنی، شر پسندی اور منافقت کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے اس قوم کے طول طویل مشاہدے کے بعد ہی ارشاد فرمایا تھا کہ: ’’ہندوؤں کی ’’ہ ‘‘ اور مسلمانوں کی ’’ م ‘‘ مل کے کبھی ’’ ہم ‘‘ نہیں بن سکتیں۔‘‘ آج یہ سلسلہ گاندھی، نہرو، ساوکر، پٹیل ، شاستری، اندرا، ڈیسائی، راجیو، باجپائی اور نرسیما راؤسے ہوتا ہوا نریندر مودی تک آن پہنچا ہے۔ماضی قریب و بعید کے حالات و واقعات گواہ ہیں کہ اس سارے عرصے میں ہندو لیڈر کا صرف نام بدلا ہے، کام، کردار اور کرتوت تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تاریک سے تاریک تر ہوتے چلے گئے ہیں۔کشمیر کے معاملے میں ان کے بہیمانہ و سفاکانہ کردار سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ لیکن اس تمام تر گھناؤنے کردار کے باوجود بین الاقوامی طاقتوں نے مذمت یا مرمت کی بجائے ان کی پیٹھ ہی تھپکی ہے، کیونکہ مسلم دشمنی میں یہود و ہنود و نصاریٰ کا ایجنڈا ایک ہے۔ آج ظفر علی خاں زندہ ہوتے تو برملا کہہ اٹھتے: ؎ دنیا میں بلائیں دو ہی تو ہیں ، اِک مودی، ایک یہودی ہے اک جھوٹ کا چلتا جھکڑ ہے، اک سر تا پا نمرودی ہے نریندر مودی جیسے انتہا پسنداور بدکردار شخص کے ایما پر ہندستانی قوانین میں گھناؤنی تبدیلیوں کے بعد ہندستان میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں رہی ۔ چاروں جانب جلاؤ گھیراؤ کا ماحول ہے۔ ایسے میںقادرِ مطلق سے دعا ہے کہ وہ ہندستان میں سکھوں، مسلمانوں اور دلتوں میں پل پل مقبول ہوتے نعرے: میرے مولا اب کے بار ہندوستان کے ٹکڑے چار کو تقویت عطا کرے۔ ایسے میں پاکستان کے وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کا کردار نہایت قابلِ تعریف ہے، جنھوں نے دنیا بھر میں نہ صرف مسئلہ کشمیر بلکہ نریندر مودی کے منفی کردار اور گھٹیا ذہنیت کا پردہ چاک کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑا۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مکار مودی سے بات چیت کرنا یا اس کی طرف دوستی، بھائی چارے اور جذبۂ خیر سگالی کا ہاتھ بڑھانے کی بجائے شاعرِ مشرق کے اس مصرعے پہ غورکرنے کی اشد ضرورت ہے:ع عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد