وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں وفاقی اداروں کے اعلیٰ افسران کو اجلاسوں میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے وارننگ دی ہے کہ عوامی بہبودسے متعلق اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر افسران کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ بیورو کریسی کی جب مرضی ہو تب وہ جان لڑا کر بھی کام کرتی ہے لیکن جب وہ کسی حکومت کو ناکام کرنے پر تل جائے تب اجلاسوں کا ہی بائیکاٹ شروع کر دیتی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں جو بھی میٹنگ ہوتی ہے اس میں وفاقی اداروں کے افسران شرکت ہی نہیں کرتے جس بنا پر وہاں پر کام ٹھپ ہیں۔بلوچستان کے حوالے سے وفاقی اداروں کو 11000سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں ،بلوچستان کی پسماندگی ایسے ہی نہیں، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لوگ ایسے ہی نہیں روتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بیورو کریسی کام میں دلچسپی نہیں لیتی۔ اس قدر شکایات کے بعد مرکز وہاں کیا کرے۔ کیا وزیر اعظم خود جا کر وہاں پر ڈیرہ لگا لیں۔ پھر باقی صو بوں کے مسائل جوں کے توں رہ جائیں گے۔ اس کا حل یہ نکالیں کہ وزیر اعظم ہفتے میں ایک ایک دن ہر صوبے کے لئے مختص کریں کہ اس دن اس صوبے کے مسائل کو دیکھیں گے پھر اس کی رپورٹ طلب کر کے اگلے اجلاس میں افسران سے جواب طلبی ہو ۔ اب تو آن لائن اجلاس میں ایک دن ہی چاروں صوبوں کے مسائل دیکھ سکتے ہیں۔اس لئے جب تک وزیر اعظم صوبائی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے افسران سے جواب طلبی نہیں کرتے تب تک مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے۔