صوفیہ(صباح نیوز،نیٹ نیوز ) بلغاریہ کی تاریخ کے سب سے بڑے حادثے میں بچوں سمیت 46بس مسافر جھلس کر ہلاک ہوگئے ۔ صوفیہ سے 26میل دور ترکی سے شمالی مقدونیہ جانے والی بس ہائی وے کے بیریئر سے ٹکرا ئی ،شعلوں نے سب کو لپیٹ میں لے لیا ،7افراد زخمی ہیں ،نگراان وزیر اعظم سٹیفن یانیف نے جائے حادثہ کا دورہ کیا ،متاثرین سے تعزیت کی ،تفصیلات کے مطابق )بلغاریہ ہائی وے پر بس میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں46 افرادہلاک اور 7زخمی ہو گئے زخمیو ں کو بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ کے ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اورآگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ۔اطلاعات کے مطابق بس ترکی سے شمالی مقدونیہ جا رہی تھی۔ پولیس کے مطابق نامعلوم وجوہات کی بنا پر پیش آنے والے اس حادثے کے بعد بس کو آگ لگ گئی تھی اس لیے مسافروں میں سے بہت کم زندہ بچے ۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق بس پر 12 بچے بھی سوار تھے جبکہ 7 مسافروں کو بچا لیا گیا،غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ منگل کو شمالی مقدونیہ کی رجسٹرڈ بس رات گئے 2 بجے کے قریب گر کر تباہ ہوئی، متاثرین میں بچے بھی شامل تھے انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد 7 افراد کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ،حادثے کی وجہ کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بس ایک ہائی وے گارڈ ریل سے ٹکرائی جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی تھی۔بلغاریہ کی خبر رساں ایجنسی ’نووینائٹ‘ کا کہنا ہے کہ شمالی مقدونیہ کے سفارت خانے کے نمائندوں نے ایک ہسپتال کا دورہ کیا جہاں چند متاثرین کو لے جایا گیا تھا۔