اسلام آباد(عمرانہ کومل)بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں مستحق اور نادار بچوں کی غذائی ضروریات کی کمی پوری کرنے کیلئے خصوصی ایکشن پلان تشکیل دیدیا گیا ہے جو ماہ رواں منظوری کیلئے پیش کردیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ ایکشن پلان وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر تیار کیاگیا ہے ۔ ایکشن پلان میں بی آئی ایس پی کے تحت ملک بھر میں قائم مراکز اورمتعلقہ بنیادی مراکز صحت کو بھی شامل کیا گیاہے ۔ بچوں میں غذائی قلت کے مسائل ختم کرنے کیلئے انکے والدین اور علاقوں میں شعوری بیداری، طبی معائنے ، ادویات اور خوراک کیلئے امدادی پروگرام شامل ہے ۔ عالمی بینک کے شعبے ہیومن ڈویلپمنٹ پروگرام کے مطابق غذائی قلت صرف صحت اور نیوٹرشن کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشی مسئلہ بھی ہے ۔عالمی بینک کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اسکے معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں، پاکستان میں اسکے منفی اثرات کاتخمینہ جی ڈی پی کا دو سے تین فیصد ہے ۔عالمی بینک نے رپورٹ میں مزید کہا کہ پاکستان کو مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ اہم فیصلے لیناہوں گے تاکہ پائیدار ترقی میں تیزی لاتے ہوئے 2047ء تک اپر مڈل کلاس ملک بن سکے ۔