نئی دہلی، اسلام آباد (نیٹ نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے شہر ایودھیا میں انتہاپسند ہندوؤں نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر شروع کر دی۔پاکستان نے مندر کی تعمیر کے آغاز کی شدید مذمت کی ہے ۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مندر کی تعمیر کیلئے بنائے گئے رام جنم بھومی تیرتھ کیشتر ٹرسٹ کے چیئرمین مہنت نرتیا گوپال داس نے مندر کے عارضی طور پر بنائے گئے ڈھانچے میں پوجا پاٹ کی جس کے بعد تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا گیا۔انتہاپسندوں نے مندر کی تعمیر کیلئے تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے چندہ اکٹھا کر لیا ہے ۔ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی نے کہا دنیاکوکوروناکاسامناہے اورآرایس ایس اوربی جے پی ہندوتوا ایجنڈے کے فروغ میں مصروف ہیں،ایودھیامیں بابری مسجدکی جگہ مندرکی تعمیرکاآغازاس حوالے سے ایک اورقدم ہے ۔بابری مسجدکی جگہ مندرکاقیام بھارتی سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کاتسلسل ہے اور اس فیصلے نے بھارت کے جھوٹے سیکولرازم کاپردہ چاک کردیا،فیصلے نے یہ بات واضح کردی بھارت اقلیتوں کیلئے غیرمحفوظ ہے ،پاکستان زہر آلود نظریات اورانتہاپسندانہ بھارتی سوچ سے دنیاکومسلسل آگاہ کررہاہے ،بھارت کے ایسے اقدامات اقلیتوں اورخطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں،عالمی برادری بھارتی اقدامات کافوری نوٹس لے ۔عائشہ فاروقی نے بھارتی میڈیامیں اوآئی سی سفراکے نیویارک میں مبینہ ورچوئل اجلاس سے متعلق گمراہ کن پراپیگنڈے پر ردعمل میں کہا بھارتی میڈیاکی حقائق کے برعکس رپورٹس مستردکرتے ہیں، اجلاس میں پاکستانی مندوب نے بھارتی دہشتگردی اوراسلاموفوبیاپرحقائق بیان کئے اوربی جے پی اورآرایس ایس کے خطرناک گٹھ جوڑ پرروشی ڈالی۔پاکستانی مندوب نے بھارت اورمقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کیخلاف ریاستی دہشتگردی سے آگاہ کیاجبکہ او آئی سی سفرانے اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیاپراجتماعی پوزیشن پرزوردیا۔