سری نگر(کے پی آئی) بھارتی وزیر اعظم مودی 25 فروری کے بعد مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے جس کیخلاف کشمیریوں نے ہڑتال کا اعلان اور مودی قاتل کے پوسٹر آویزاں کر دیئے ۔ برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی طرف سے جموں وکشمیر میں بھارتی غیر قانونی اقدامات پر بیان کو سراہا ہے ، لیبر پارٹی کے رہنما اینڈریو گیوائن اوردیگر نے کہا کہ ہم سب کو اقوام متحدہ کے ماہرین کے مشاہدات کو قبول کرنا چاہئے ، جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور اقلیتی برادریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ ہونا چاہئے ۔ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کیخلاف ٹرانسپورٹر ز کل سے احتجاج کرینگے ، تفصیلات کے مطابق 5 اگست 2019 کومقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد نریندر مودی کاپہلا دورہ کشمیر ہوگا۔ مودی کے مجوزہ دورہ کشمیر کی تیاریاں کی جارہی ہیں،کے پی آئی کے مطابق مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد پر مکمل ہڑتال کی جائے گی ۔ سرینگر اور ملحقہ علاقوں میں پوسٹرز آویزاں ہوئے ہیں جس میں لوگوں کو اپیل کی گئی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے متوقع دورے کے موقع پر مکمل ہڑتال کی جائے ۔پوسٹرز جن پر درج ہے کہ کشمیری وزیراعظم کے دورے کو مکمل مسترد کرتے ہیں کو کھمبوں پر سرینگر شہر کی گلیوں میں اور ملحقہ علاقوں میں مختلف مقامات پر چسپاں کئے گئے ہیں۔ دریں اثنا مقبوضہ جموں وکشمیر کے ٹرانسپورٹرز نے 24 فروری سے غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال کا اعلان کردیا ہے ۔کے پی آئی کے مطابق ٹرانسپورٹ انجمنوں کے مشترکہ اتحاد کشمیر پسنجیر ویلفیئر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکس بھی بڑھا دئیے گئے ہیں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں حادثات کا باعث بن رہی ہیں ۔ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل نہیں کر رہی ہے اس لیے بدھ سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کرنے کا متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے ۔ یہ ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک کہ حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات پورے نہیں کئے جاتے ۔