کشمیر سنگھ جب تین عشرے پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا پہنچا تو اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔کشمیر سنگھ 1973ء میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوا اور جب پاکستان کی جیلوں میں 35برس گزارنے کے بعد اسے 2008ء میں رہا کیا گیا تو انڈیا میں اس کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔ پاکستان میں موجودگی کے دوران کشمیر سنگھ نے ہمیشہ اپنے آپ کو بے قصور قرار دیا اورپاکستان کے جیل میں مسلمان بنابیٹھاتھالیکن بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہی اس نے اعتراف کیا کہ وہ جاسوسی کے لیے پاکستان گیا تھا۔ رویندرا کوشک ایک ایسا بھارتی جاسوس تھا جو 25 برس تک پاکستان میں رہا۔ رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوا۔ جب اسے بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ تھا۔ اردو زبان اور مذہب اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد اسے نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان بھیجا گیا۔ پاکستان بھیجے جانے سے پہلے اس نے اپنا ختنہ بھی کروا لیا تھا۔ وہ نہ صرف بہت کامیابی سے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا، بلکہ اس نے پاکستان میں شادی بھی کر لی تھی اور اس کا بچہ بھی تھا۔کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پاک افواج میں کلرک کے طور پر بھرتی ہوا اور پھر ترقی کرتے ہوئے کمیشنڈ افسر بن گیا اور پھر وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچا۔ رویندرا کوشک کی گرفتاری ایک اور بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی جسے خصوصی طور پر میجر رویندرا کے ساتھ رابطے کے لیے بھیجا گیا تھا۔رویندرا کوشک کی گرفتاری کے بعد اسے پاکستان کی مختلف جیلوں میں سولہ برس تک رکھا گیا اور 2001ء میں اس کی موت جیل میں ہوئی۔ 2004 ء میں لاہور میں گرفتار ہونے والا رام راج شاید واحد ایسا بھارتی جاسوس تھاکہ جو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہوگیا۔ اسے چھ برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ اپنی سزا کاٹ کر واپس انڈیا پہنچا تو اسے بھارتی اداروں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔حالانکہ وہ پاکستان آنے سے پہلے اٹھارہ برس تک بھارت کے خفیہ ادروں میں کام کر چکا تھا۔سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012ء میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس انڈیا پہنچا تو کشمیر سنگھ کے برعکس اس کا کسی نے استقبال نہ کیا۔ سرجیت سنگھ نے بھارت پہنچ کرکہاکہ وہ پاکستان میں را کا ایجنٹ بن کر گیاتھا لیکن کسی نے اسکی بات پر کان نہ دھرے۔سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد بھارتی میڈیاسے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اس کاکہنا تھا کہ بھارتی حکومت ان کی غیر موجودگی میں ان کے خاندان کو ماہانہ پینشن ادا کرتی تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ را کا ایجنٹ تھا اور وہ گرفتاری سے پہلے پچاسی بار پاکستان کا دورہ کر چکاتھا۔ جہاں وہ دستاویزات حاصل کر کے واپس لے جاتا تھا۔ گربخش رام کو 2006ء میں 19دوسرے بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اٹھارہ برس تک پاکستانی جیلوں میں رہا۔ گربخش رام کو 1990ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جا رہاتھا لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گیا۔بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گربخش رام نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کو وہ سہولتیں دینے سے انکاری ہیں جو سربجیت سنگھ کے خاندان کو ملی ہیں۔ونود سانھی 1977ء میں پاکستان میں گرفتار ہوا،اور گیارہ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد اسے 1988ء میں رہائی ملی۔ونود سانھی نے اب انڈیا میں سابق جاسوسوں کی فلاح کے لیے جموں ایکس سلیوتھ ایسوسی ایشن نامی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔وہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتاہے کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور تھا جب اس کی ملاقات ایک بھارتی جاسوس سے ہوئی جس نے اسے سرکاری ملازمت کی پیشکش کی اورپھراسکو پاکستان بھیجا گیا لیکن جب وہ پاکستانی قید سے رہا ہوا تو حکومت نے اسکی مدد نہیں کی۔(ختم شد)