اسلام آباد ، بنوں ،لاہور (92 نیوزرپورٹ،نمائندہ 92نیوز، خصوصی رپورٹ ،نامہ نگار ) حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ،جمعیت علمائے اسلام( ف) کے آزادی مارچ کے مقام کے تعین سے متعلق حکومت اور اپوزیشن میں معاہدہ طے پا گیا ، دھرنے کا مقام تبدیل ہو گیا ، سٹیج اب پشاورموڑپر سجے گا ۔وزیردفاع پرویزخٹک نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر بات نہیں ہوئی جبکہ رہبرکمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہم اپنے مطالبے پر قائم ہیں ۔تفصیلات کے مطابق معاہدے پر ڈپٹی کمشنر اسلام حمزہ شفقات اور جے یوآئی کے جنرل سیکرٹری ضلع اسلام آباد مفتی عبداللہ نے دستخط کئے ۔ معاہدے کے مطابق دونوں فریقین راضی ہیں کہ جے یو آئی اور اتحادی جماعتیں اپنی ریلی ایچ نائن میں نزد اتواربازارمیڑوڈپو(پشاورموڑ)پر منعقد کرینگی۔ انتظامیہ جے یوآئی کی ریلی ،کھانے کی ترسیل کی راہ میں رکاوٹ کھڑی نہیں کریگی ۔ جے یو آئی اس امرکو یقینی بنائے گی کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہ ہوں، جے یو آئی مختص جگہ سے شرکا کے غیرقانونی طورپر باہر نہ جانے کی ذمہ دارہوگی، اندورنی سکیورٹی بھی جے یو آئی کی ذمہ داری ہوگی، منتظمین کو این اوسی کی ہرشق پر عمل درآمد کا بیان حلفی جمع کرانا ہوگا، این او سی یا معاہدے کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی اور معاہدہ باطل ہوجائیگا ، سرکاری یا نجی املاک یا جانی نقصان پر جے یو آئی کے خلاف ضابطہ کے مطابق کارروائی کی جائیگی ۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویزخٹک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ معاہدے کے مطابق اپوزیشن والے ڈی چوک پرنہیں آئینگے ،جس جگہ ہم ان کواجازت دینگے وہ اسی کے اندررہینگے ،آزادی مارچ والے بلیوایریاکی طرف بھی نہیں جائینگے ،ہم نے آزادی مارچ کیلئے ایچ 9میں اتواربازارکیساتھ ایک کھلے گرائونڈمیں جلسے یاجوبھی اپوزیشن کرناچاہے وہاں کرسکتی ہے کی اجازت دی ہے ،مارچ کے شرکاڈی چوک یاریڈزون میں نہیں آئینگے ،حکومت راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی،امیدہے جے یوآئی (ف)آئین اورقانون کے دائرے میں رہ کراحتجاج کریگی،پورے ملک میں راستے کھلے ہونگے ، رہبرکمیٹی نے جلد یا نئے الیکشن کا بھی کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔کنٹینرزکب اٹھوائے جائینگے ؟ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بس اب مسئلہ ہی ختم ہوگیا،کنٹینرہویانہ ہو،ہم دیکھیں گے کہ کیاوہ اپنے معاہدے پرپورااترتے ہیں توکنٹینرزہٹتے جائینگے ،دھرنایاجلسہ ہوگااس کہ یقین دہانی نہیں لی،اپوزیشن والے دھرناکرتے ہیں یاجلسہ یہ انکی مرضی،پرامن ہوناچاہئے یہ گارنٹی ہم چاہتے ہیں جبکہ رہبر کمیٹی کے چیئرمین اکرم خان درانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہبر کمیٹی کے 11 ممبران کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ہم ریڈ زون میں داخل نہیں ہونگے ، آزادی مارچ کشمیر ہائی وے پر کریں گے جو پی ٹی آئی والوں کی طرح 126 دن کا طویل نہیں ہوگا ،موقع کی مناسبت سے ہوگا، ہمارے مطالبات وہی ہیں وزیر اعظم مستعفی ہوں، شفاف الیکشن ہو،اسلامی شقوں کا تحفظ ہو۔ انصار الاسلام پر پابندی لگانا مسترد کرتے ہیں ، سینیٹر حافظ حمد اللہ کی شہریت اور شناختی کارڈ کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا لیکن آزادی مارچ سے قبل ہی ہمارے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی ، 92 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت نے جو جگہ جلسے کیلئے دی ہم نے قبول کرلی، انہیں بھی معاہدے پر عمل درآمد کرنا ہوگا،دوسری جانب جے یو آئی ف نے پارٹی ترجمانوں کیلئے 12 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ، حافظ حمد اللہ کا نام پارٹی ترجمانوں کی فہرست میں شامل نہیں، 12 رکنی ٹیم کے علاوہ کسی اور کی گفتگو پارٹی پالیسی تصور نہیں ہوگی۔قبل ازیں مولانا عبد الغفور حیدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں (آج)جے یو آئی کے کارکنان سڑکوں پر نکلیں گے ،کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرینگے ،اپنی رضاکار تنظیم پر پابندی کیخلاف عدالت سے رجوع کرینگے ۔