لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی ٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے کاروباری حضرات یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کیسے اپنے پیسے کونکالیں لیکن جب حکومت کی طرف سے یہ واضح ہوگا کہ حکومت ان کو تحفظ دی گی تو پھر حکومت ان کاروباری حضرات سے جتنابھی ٹیکس مانگیں گے وہ دینگے ۔ پروگرام مقابل میں میزبان علینہ شگری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جتنی بھی سیاسی مخالفت ہو کام مل جل کر کرناہوگا۔ اگر سیاسی ورکنگ ریلیشن شپ ہوگی تو وزیراعظم، وزیراعلی سندھ سے صوبے کے مسائل کے حوالے سے پوچھ سکیں گے ۔ تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہاہے کہ شہبازشریف سے نیب نے پوچھاہے کہ لاہور کی صفائی کا ٹھیکہ ایک ترک کمپنی کو دیا گیاہے جو 15ارب روپے بنتا ہے جبکہ شہر کی صفائی صرف چار ارب روپے میں ہورہی تھی،عمران خان نے ایک گانا یاد کررکھا ہے کہ چھوڑوں گا نہیں ان کا احتساب کروں گا لیکن اب بہت ہوگیاہے ، پولیس، ایف بی آر اورسیاستدانوں نے اس ملک کو تباہ کردیا ، اگر ن لیگ کے پاس ثبوت ہیں تو وہ عدالت میں جا کر نوازشریف کو رہا کیوں نہیں کراتے ۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شہبازشریف اور رانا مشہود کے خلاف وعدہ معاف گواہ مل گئے ہیں، دونوں کا بچنا انتہائی مشکل ہے ۔تجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا ہے کہ دنیا میں ہوا سے پانی بنانے کے تجربات ہورہے ہیں لیکن ہم کوئی کام نہیں کررہے ہیں، کراچی میں وزیراعظم نے سات آٹھ کاروباری حضرات کے وفود سے ملاقات کی جو زیادتی ہے کیونکہ ا نہیں بہت کم وقت دیا گیا، عمران خان معیشت کو ڈاکیومنٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں تھوڑا آہستہ آہستہ چلناہوگا تاکہ کاروباری برادر ی کا اعتماد بحال ہو۔ سختی بھی کریں لیکن وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو سمجھائیں بھی۔