وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ معاشی بحران اور کورونا کی وجہ سے مشکلات کے باوجود ترقیاتی اخراجات کم سے کم متاثر ہوں۔ آئندہ بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے۔ گزشتہ چار برسوں سے پاکستان کی معیشت کو بیرونی قرض اور غیر ضروری ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ ان قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کو جن ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے ان کی تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت کا مقصد یہی دکھائی دیتا ہے کہ آئندہ بجٹ میں مختلف شعبوں کے لئے رقوم مختص کرتے وقت ناگزیر ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز میں کٹوتی نہ کی جائے۔ بجٹ سازی ایک دقیق کام ہے جس میں ہزاروں خواہشات کو تھوڑے سے وسائل میں پورا کرنے کا جتن کیا جاتا ہے۔ جو بجٹ کم سے کم غیر ملکی قرض اور امداد سے ترتیب دیا جائے پاکستانی حوالے سے وہ سب سے اچھا ہو گا۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے بجٹ ملک کے معاشی ڈھانچے میں سہولیات پیدا کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے اپوزیشن کے دور میں ہمیشہ سیاحت کے فروغ‘ نئے ڈیموں کی تعمیر‘ نئے ہسپتالوں کے قیام اور تحقیقی سہولیات کی فراہمی کی بات کی۔2018ء کے عام انتخابات کے دوران عمران خان نے بے گھر پاکستانیوں کے لئے 50لاکھ سستے گھر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا۔ لگ بھگ بیس ماہ کی حکومت میں نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے کے افتتاح کے سوا کوئی ٹھوس کام تاحال شروع نہیں کیا جا سکا۔12کروڑ کی آبادی والے پنجاب کے دور دراز اور محرومیوں کے مارے علاقوں میں ترقی کا عمل اس حد تک شروع ہوا کہ دو ہفتے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے آبائی ضلع میں پہلے کارڈیالوجی ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا۔ جون 2019ء میں تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔7.022کھرب روپے کا یہ بجٹ سابقہ بجٹ سے 30فیصد زاید حجم کا تھا۔ اس بجٹ میں 2891ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی‘79ارب تنخواہوں اور پنشن کے لئے‘ 272ارب روپے سبسڈیز کے لئے‘701ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص کئے گئے۔ اس رقم کو پسماندہ اور احساس محرومی کے شکار علاقوں کو ترقیاتی دینے کے لئے استعمال کرنے کا بتایا گیا۔ مزید رقم کا انتظام کر کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کو 1.863کھرب تک کیا گیا۔ اس رقم سے سکھر ملتان موٹر وے کی تعمیر‘ دیامر بھاشا ڈیم کے ابتدائی کاموں‘ مہمند ڈیم کی تعمیر‘ سیاحت و گرین پاکستان سکیم اور مختلف وزارتوں ‘ ڈویژنوں اور شعبوں کے معمول کے ترقیاتی اخراجات کا انتظام کیا گیا۔ ایک زرعی ملک کو جس ترقیاتی ڈھانچے کی ضرورت ہے پاکستان اس سے محروم ہے۔ سڑکوں کی تعمیر سے لے کر صنعتوں کے قیام تک زراعت کی ضروریات کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ زرعی پیداوار کو تادیر محفوظ رکھنے‘ ان کی ذیلی مصنوعات تیار کرنے اور ان کو بیرونی منڈیوں میں فروخت کرنے کے لئے سرکاری سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے‘ عوامی نمائندوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ سڑکوں اور سیوریج کی تنصیب سے ان کے ووٹر خوش ہوتے ہیں ۔ کورونا کی وبا کے باعث حکومت کو اپنے بجٹ میں کی گئی منصوبہ بندی پر نظرثانی کرنا پڑی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے لاک ڈائون کا اعلان کرنے کے بعد مختلف امدادی منصوبوں کے لئے 1200ارب روپے کا پیکیج منظور کیا۔ وبا سے نمٹنے کے لئے عالمی اداروں اور دوست ممالک نے امدادی رقوم بھجوائی ہیں تاہم نقصان کا حجم بہت بڑا ہے۔ وزیر اعظم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت دفاع‘ خوراک اوردیگر سرکاری اخراجات کوپورا کرنے کے لئے دستیاب وسائل میں نئے سرے سے توازن لانے کا سوچ رہی ہے۔ توازن پیدا کرنے کے لئے ہمیشہ کی طرح ترقیاتی اخراجات کو کم کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے صرف 530ارب روپے کی رقم رکھی جا رہی ہے۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر بھی اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ آئندہ بجٹ میں ترقیاتی فنڈز وزارت خزانہ اپنی گنجائش کے اندر رہ کر مختص کرنا چاہتی ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں کمی عام طور پر سیاسی لحاظ سے غیر مقبولیت کا باعث بنتی ہے لیکن اس کم بجٹ کو اگر درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو خدشات کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم یوں تو پہلے روز سے بلا امتیاز احتساب پر کسی سمجھوتے کے حق میں نہیں تاہم ان کی جانب سے ترقیاتی بجٹ کے استعمال کی کڑی نگرانی کا انتظام کر دیا جائے تو بجٹ میں کمی کا کچھ ازالہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت وفاقی حکومت کے سامنے حال ہی میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہے۔ بھاشا ڈیم پر 10 برس کے دوران 1400ارب کے قریب ترقیاتی فنڈز خرچ ہونا ہیں۔ اس حساب سے ہر سال تقریباً 140ارب روپے اس منصوبے پر خرچ ہونا ہیں۔ نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے میں سرمایہ کاری کے لئے حکومت نے سرمایہ کاروں کے لئے مراعاتی پیکیج جاری کر دیا ہے جس کے تحت ان سے رقم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا۔ فنڈز کی قلت میں حکومتیں ہمیشہ کفایت شعاری کے ذریعے اخراجات کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ حکومت کی مجبوریاں اور وزیر اعظم کی محروم طبقات کے لئے درد مندی بجا لیکن اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ترقیاتی بجٹ میں کمی ان منصوبوں کو متاثر نہ کرے جوافلاس زدہ اور محرومیوں کے ستائے عوام کی زندگی میں آسانی کا باعث بن رہے ہیں۔