پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کشمیر کا تنازع کشمیری باشندوں کی خواہش کے مطابق حل کیا جائے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پرامن ذرائع سے تنازع طے کرنے پر زور دیتے ہوئے بھارت کو باور کرایا کہ پاکستان اور اس کی فوج کی طرف سے امن کی خواہش کو کسی طرح کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پسماندہ سیاسی نظام سے اٹھ کر جن ریاستوں نے خود کو مہذب ثابت کیا انہیں صنعتی و زرعی ترقی کے ثمرات بھی اضافی فائدے کے طور پر ملے۔ بھارت اور پاکستان جب برطانوی استعمار سے آزاد ہوئے تو ان کے پاس ایک موقع تھا کہ غلامی کے باعث جو پسماندگی ملی اس سے نجات حاصل کر سکیں۔ دونوں ریاستوں کی بنیاد الگ نظریات پر تھی۔ کانگرسی رہنما سارے ہندوستان کو یکجا رکھنا چاہتے تھے۔ وہ اس بات کو اہمیت دینے کو تیار نہ تھے کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے مابین مذہب اور سماجی و ثقافتی سطح پر اس قدر اختلافات پیدا ہو چکے ہیں کہ اب ان عقاید کے پیرو کاروں کا ایک ریاست میں مل جل کر رہنا ممکن نہیں رہا۔ مسلم لیگ اور اس کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح کا موقف دو قومی نظریہ کی شکل میں سامنے آیا۔ گو یہ نظریہ مختلف شکلوں میں مختلف ادوار میں نمو پاتا رہا لیکن اس کی سیاسی شکل مطالبہ پاکستان کے ساتھ واضح ہوتی گئی۔بھارت اور پاکستان اپنے قیام کے وقت اگر قائد اعظم کی سوچ کے مطابق تعلقات استوار کر لیتے تو کشمیر‘ پانی‘ سرحدوں کے تعین‘ اثاثوں کی منصفانہ تقسیم اور پرامن نقل مکانی کا عمل ممکن بنایا جا سکتا تھا۔ دونوں طرف کی قیادت کو احساس تھا کہ انگریز جاتے جاتے دونوں کے درمیان بدگمانی اور دشمنی کا بیج بو رہا ہے۔ پاکستان کو قائد اعظم جیسی دانشمند قیادت میسر تھی۔ ریڈ کلف ایوارڈ میں ناانصافی کرتے ہوئے پنجاب کے ان علاقوں کو بھارت کا حصہ بنا دیا گیا جہاں مردم شماری کے مطابق مسلمان آبادی اکثریت میں تھی ،گورداسپور کو اس لئے بھارت کا حصہ بنا دیا گیا کہ بھارت کو کشمیر پر قبضے کے لئے راہداری دینا مقصود تھا۔ قائد اعظم نے کانگرس اور برطانوی حکام کے متعدد فیصلے صرف اس لئے مان لئے کہ وہ دو طرفہ تعلقات کو کشیدگی سے بچانا چاہتے تھے۔ آزادی کے وقت ایک اصول طے پایا۔ آزاد ریاستوں اور راجواڑوں کو کہا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لیں۔ مہاراجہ کشمیر سمیت کچھ ریاستوں کے حکمران الگ ،خود مختار حیثیت کے خواہشمند تھے لیکن پاکستان‘ بھارت اور حکومت برطانیہ میں سے کوئی اس تجویز کے حق میں نہ تھا۔ پھر ایسا بھی تھا کہ کچھ ریاستیں جغرافیائی طور پر اس ملک کی سرحدوں میں گھری ہوئی تھیں جس کے ساتھ وہ نہیں رہنا چاہتی تھیں۔ یہ اصول طے کرنا بھی ضروری تھا کہ الحاق کا فیصلہ حکمران کرے گا یا ریاست کے عوام۔ برطانیہ یہ تعین نہ کر سکا جس پر مہاراجہ کشمیر نے پہلے پاکستان کے ساتھ سٹینڈ سٹل معاہدہ کیا اور پھر کانگرسی قیادت کے بہکاوے میں آ کر بھارت کے ساتھ الحاق کا معاہدہ کر لیا۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مہاراجہ کے ساتھ معاہدہ کرنے سے پہلے بھارت نے اپنی افواج کشمیر میں داخل کر دی تھیں۔ پاکستان کے لئے یہ معاہدہ شکنی ہرگز قابل قبول نہ تھی۔ لاکھوں کشمیری مسلمانوں کو ان کی خواہش کے خلاف بھارت کی غلامی میں نہیں دیا جا سکتا تھا۔ پاکستان کا ردعمل فطری تھا۔ قبائلی مجاہدین اور افواج پاکستان نے قابض بھارتی فوج کے خلاف کارروائی شروع کی اور کشمیر کا ایک بڑا حصہ آزاد کرا لیا جو آزاد کشمیر کہلاتا ہے اور جہاں کے باشندے پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو جب جنگ بندی کی درخواست لے کر اقوام متحدہ گئے تو انہوں نے تنازع کشمیر کا ایک بنیادی اصول تسلیم کر لیا کہ اقوام متحدہ کا ثالثی کردار قابل قبول ہو گا اور کشمیریوں کی منشا کے مطابق اس تنازع کو طے کیا جائے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت اس وعدے سے دور ہوتا گیا اور کشمیر کو فوجی جبر کے ذریعے اپنا حصہ بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہا۔ تنازع کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تین بڑی اور ایک محدود جنگ ہو چکی ہے۔ ان جنگوں میں ہزاروں سپاہی دونوں طرف سے مارے گئے۔ کھربوں روپے کا نقصان ہوا۔ دونوں ریاستوں کی توانائی اور مالی وسائل عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کی بجائے مغربی ملکوں سے اسلحہ خریدنے کے لئے استعمال ہوتے رہے۔دونوں ایٹمی ٹیکنالوجی پر بھاری بجٹ خرچ کرتے رہے۔ کشمیر کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔ یہ آبادی بھارت کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں‘ کشمیری ایک لاکھ کے لگ بھگ جوانوں کی قربانی دے چکے ہیں‘ ان کے حوصلے ہر گزرتے دن کے ساتھ توانا ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت تنازع کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بجائے تشدد اور جبر کو آزما رہی ہے۔ پاکستان کے لئے یہ صورت حال ناقابل قبول ہے۔ دفاعی لحاظ سے پاکستان بھارت سے مقابلے کی استعداد رکھتا ہے۔ ماضی اس کا گواہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے شہادتیں دینے کی عظیم مثالیں قائم کیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک سپاہی ہیں جو لڑائی کے ذریعے معاملہ طے کرنے کا راستہ جانتا ہے لیکن انہوں نے پاکستان کے ریاستی موقف کی تائید کرتے ہوئے بھارت کو پیشکش کی ہے کہ تنازع کشمیر کو کشمیریوں کی منشا کے مطابق حل کر کے بھارت دو طرفہ تعلقات میں موجود کشیدگی کو ہمیشہ کے لئے ختم کر سکتا ہے۔