سندر،لاہور،اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)قائد مسلم لیگ (ن)نواز شریف کی طلبی کیلئے جاتی عمرہ اور ماڈل ٹائون رہائش گاہوں پر طلبی کے اشتہار لگ گئے ، جاتی عمرہ میں چسپاں کیا جانے والا عدالتی نوٹس گھر کی انتظامیہ نے اتاردیا۔احتساب عدالت اسلام آباد کے جج سید اصغرعلی نے نواز شریف کوتوشہ خانہ ریفرنس میں سترہ اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔نواز شریف کو وزیر اعظم کے طور پر ملنے والے تحائف کی تفصیلات بتانے کیلئے طلب کیا گیا اور اس سلسلہ میں ان کی رہائشگاہ جاتی عمرہ اور ماڈل ٹاؤن کے باہر نوٹسز بھی چسپاں کئے گئے ۔جاتی عمرہ پر چسپاں نوٹس کو ذرائع کے مطابق عدالتی عملہ کے جانے کے بعد انتظامیہ نے اتار دیا۔احتساب عدالت کا کہنا ہے نواز شریف جان بوجھ کر عدالتی کارروائی سے مفرور ہیں،ان کو پیش ہوکر توشہ خانہ ریفرنس کا جواب دینے کے لیے 17 اگست تک آخری موقع دیاجاتاہے ،نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع کردی۔مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق نیب ذرائع نے بتایا پبلک مقامات پر بھی نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے نوٹسز لگائے جائیں گے ۔دوسری جانب نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیسز میں سابق صدر آصف زرداری کے خلاف احتساب عدالت میں جو اب جمع کرا تے ہوئے کلفٹن کراچی کا گھر منجمد کرنے کی استدعا کر دی۔نیب نے کہا ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ آصف زرداری نے کلفٹن کراچی کا گھر کرپشن سے بنایا،نیب نے 8 ارب روپے کی مشتبہ ٹرانزیکشن پر جواب میں مؤقف اختیار کیا کلفٹن والے گھر کی خریداری کے لیے آصف زرداری کے سٹینو گرافر مشتاق کے اکاوَنٹ سے 15 کروڑ روپے ادا کیے گئے ،آصف زرداری کو کلفٹن کے گھر کا سوالنامہ دیا گیا جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ آصف زرداری خود گھر کی خریداری کا کوئی ثبوت نہیں دے سکے ، سٹینو گرافر مشتاق احمد نے سابق صدر کے ساتھ 104غیرملکی دورے کئے ،سٹینو گرافر مشتاق کو شامل تفتیش کرنے کی کوشش کی جو فرار ہو گیا۔