موڑ کھنڈا کے نواحی گائوں کا رہائشی عبدالرشید روزانہ زندگی کی جنگ ایک نئے جذبے سے لڑتا ہے۔ وہ اپنی خالی جیب کے بھاری پن کے ساتھ زندگی کو مشکل سے سانس سانس آگے دھکیلتا ہے۔عبدالرشید کی زندگی ان کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کی طرح ہمیشہ مشکلات اور آزمائشوں سے دوچار رہتی ہے جو سفید پوشی کے زخ میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ اور اکثر اس کے معاشی معاملات اتنے دگرگوں ہو جاتے ہیں کہ سفید پوشی سرکتے سرکتے غربت کے دہانے تک پہنچ جاتی ہے۔ پانچ بچوں ایک بیوی اور بوڑھے ماں باپ کے ساتھ وہ ایک بھرے پرے گھرانے کا سربراہ ہے۔ دو بڑی بیٹیوں کی شادی بھی کر چکا ہے۔بڑی بیٹی عظمیٰ شادی کے بعد اپنے نکھٹو شوہر کے ساتھ خوش نہ رہ سکی تو واپس اپنے والدین کے گھر آ گئی جبکہ چھوٹی بیٹی شازیہ بھی چھ ماہ سے اپنے دو بچوں کے ساتھ اپنے باپ کے گھر پر ہے۔ وبا پھیلنے سے کاروبار بند ہوئے تو اس کے شوہر کا روزگار چلا گیا گھر میں کھانے پینے کے لالے پڑ گئے تو شازیہ کے شوہر نے ذمہ داریوں سے جان چھڑانے میں ہی عافیت سمجھی۔سو شازیہ اب اپنے باپ کے گھر واپس آ چکی ہے۔ عبدالرشید بچوں کے سلے سلائے کپڑے شہر سے لاتا ہے اور قریب کے دیہاتوں میں سائیکل پر بیچتا ہے اس سے پہلے وہ ڈرائیوری کرتا تھا۔ کام ایسا تھا کہ دن اور رات کی تمیز نہ تھی۔ اس کی صحت راتوں کو جاگ جاگ کر گرنے لگی۔اس کام کا مشورہ عبدالرشید کو اس کے بہنوئی نے دیا کہ سائیکل پر آس پاس کے دیہاتوں میں بچوں کے کپڑے بیچے۔ کئی بار وہ اپنے مال میں کھیس‘ پلنگ کی چادروں اور دسترخوانوں کا اضافہ بھی کر لیتا ہے۔ دال روٹی چل رہی تھی کہ وبا پھیلنے پر اس کا ’’کاروبار‘‘ بہت متاثر ہوا ،پھر کچھ عرصے سے عبدالرشید کی دائیں ٹانگ میں درد ہونا شروع ہوا‘پنڈلی کے قریب ایک دانہ نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے پھوڑا بن گیا اور ٹانگ میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں اس ایک ننھے سے پھوڑے نے عبدالرشید کی معیشت اور معاشی صورت حال کو تہہ و بالا کر دیا۔ ٹانگ میں درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں تو چلنا پھرنا دوبھر ہو جاتا ہے۔ کجا کہ وہ میلوں سائیکل چلائے اور کپڑے بیچے ،سائیکل نہیں چلائے گا کپڑے نہیں بیچے گا تو اس کی جیب خالی رہے گی اور جیب خالی ہو گی تو چولہا کیسے چلے گا۔؟جیب خالی رہے گی تو علاج کہاں سے کروائے گا۔ یہی سوچ سوچ کر اسے ہول اٹھتے ہیں۔ پھوڑے کے علاج کے لئے اس کی بیوی نے کئی ٹوٹکے استعمال کیے۔ہلدی اور تیل لگایا‘کچا پیاز کوئلوں کی بھوبھل میں نرم کر کے زخم پر باندھا مگر درد میں کمی نہ ہوئی۔کسی نے مشورہ دیا کہ شہر کے ڈاکٹر سے علاج کروائو۔ لیکن عبدالرشید کے پاس اتنے پیسے کہاں تھے پھر اسے کسی نے بتایا کہ حکومت غریبوں کو پیسے دے رہی ہے تم بھی اس میں اپنا نام درج کروائو۔ عبدالرشید اتنے بڑے کنبے کا اکیلا کمانے والا گھر بیٹھ گیا تو غربت اور بھوک نے گھر کی خستہ دیواروں سے لے کر گھر کے چولہے چونکنے پر اپنا قبضہ جما لیا۔ بھوک‘بیماری‘غربت اور بے بسی کے اس عالم میں اگرچہ عبدالرشید کی خوداری اسے کچھ قت تک تو روکے رکھا کہ وہ حکومت وقت کے سامنے ہاتھ پھیلائے مگر پھر اس نے اپنے حالات کے سامنے ہار مان لی اور گائوں کے ایک پڑھے لکھے لڑکے سے کہا کہ وہ بھی اس امداد کے لئے اپنا نام درج کروانا چاہتا ہے جو حکومت پاکستان غریبوں کو دے رہی ہے۔ عبدالرشید نے اپنا شناختی نمبر ایک ایک ہندسہ بولا تاکہ کہیں کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے۔ اپنے کوائف اخبار میں دیے گئے طریقے کے مطابق لکھوائے اور موبائل فون کے ذریعے دیے گئے نمبر پر بھیج دیے۔اسے امید تھی کہ حکومت پاکستان کے ’’احساس‘‘ پروگرام والے اس کی معاشی مشکلات اور غربت کا احساس کریں گے اور کچھ امداد اسے بھی مل جائے گی چلو مہینے بھر کا آٹا اور سودا سلف آ جائے گا۔ کچھ پیسوں سے وہ اپنا علاج کروا لے گا۔ ٹانگ ٹھیک ہو گئی تو پھر سے سائیکل چلا کر اپنی روزی کما سکے گا۔ عبدالرشید شیخ چلی کی طرح خوش گمانیوں کے سفر پر نکل کھڑا ہوا کہ اس کے کانوں سے آواز ٹکرائی۔ چاچا۔ تم حکومت پاکستان کے اس پروگرام سے امداد لینے کے اہل نہیں ہو۔ کیونکہ تمہارا اپنا گھر ہے نا اس لئے اور ظاہر ہے اور پھر تم ’’بیوہ‘‘ بھی نہیں۔عبدالرشید کے عارضی خوشحالی کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے تھے کیونکہ وہ حکومت پاکستان کے خزانے سے امداد لینے کا اہل نہیں تھا۔عارضی خوشحالی کے سارے خواب زرد پتوں کی طرح ہوا میں اڑتے پھرتے تھے۔ پورے مہینے کا آٹا ‘چینی ‘گھی ‘صابن سودا سلف گھر کے چولہے پر پکتی ہانڈی کا خوش کن منظر۔ شہر کے ڈاکٹر سے پھوڑے کا علاج ہو جاتا تو وہ خوددار عبدالرشید‘ بھلا چنگا ہو کر پھر سے سائیکل کے پیڈل مارتا اپنی معیشت کے پہیے کو چلا لیتا۔ مگر یہاں تو اسے امداد کے لئے پاکستان کے خزانے سے چند ہزار نہ مل سکے تھے۔ وہ ایک ہارے ہوئے سپاہی کی طرح گھر واپس گیا۔ شکست کی کہانی اس کے چہرے پر لکھی تھی۔ تہی دامن کا عذاب تو پہلے یہ گھر والے سہہ رہے تھے گھر والی نے عبدالرشید کا حال دیکھا تو اپنے کانوں کی بالیاں اتار کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیں۔ کہا اللہ چنگی کرے گا توں دل چھوٹا نہ کر عبدالرشید۔عبدالرشید کسی ایک شخص کا نام نہیں۔ یہ ایک علامت ان لاکھوں سفید پوش غریب پاکستانیوں کی، جن تک حکومت وقت کے خوشحالی اور امداد کے نعرے تو ضرور پہنچتے ہیں لیکن وہ اپنے ’’اثاثوں‘‘ کی بنیاد پر ان کی امداد کے اہل نہیں ہوتے دراصل ان کا کوئی پرسان حال ہوتا ہی نہیں۔خسارا کم ہوا ہے سٹاک مارکیٹ کے اشاریے بتاتے ہیں کہ ملکی معاشی ترقی کی طرف گامزن ہے اور بیرونی آقائوں سے ملنے والی شاباش پر عوامی حکومت اتراتی پھرتی ہے کہ اس نے غربت کے خاتمے کے لئے قابل قدر کام کیا۔