مکرمی !وہ تعلیم جو ہم اپنے تعلیمی اداروں میں دے رہے ہیں وہ بالکل بھی کافی نہیں ہے کیونکہ نہ تو یہ ہماری سوچ بدل رہی ہے اور نہ ہی ہمارے ذہن کو وسعت عطا کر رہی ہے۔ ہم تعلیم حاصل کر کے بھی اسی پرانی اور بے بنیاد سوچ اور نظریہ کے حامی ہیں جسے بدل جانا چاہئے تھا۔ ہماری عورتیں آج بھی اعلی تعلیم یافتہ ہو کر بھی اسی ساس بہو کے نظریے کے ساتھ چلتی ہیں اور وہیں بیٹھ کر ایک دوسرے کے بارے میں باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔ تعلیم بہتر اور مہذب زندگی گزارنے کیلئے لازم و ملزوم ہے کیونکہ یہ ہمیں موقع دیتی ہے اپنے آپ کو بہتر اور قابل بنانے کا ،اپنے آپ کو سدھارنے کا مگر جب ہمارا مکمل رجحان نمبروں اور صرف نمبروں پر ہوگا تو پھر یہ تعلیم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے۔ (اسماء طارق،گجرات)