اسلام آباد(نامہ نگار،این این آئی)چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی تمام توجہ وائٹ کالر کرائمز اور میگا کرپشن کے کیسز پر مرکوز ہے جبکہ کوئی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔گزشتہ روزو نیب ہیڈکوارٹرز میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہواجس میں نیب کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ موجودہ نیب انتظامیہ نے شکایت کی تصدیق، انکوائری ، انویسٹی گیشن اور حتمی ریفرنس کا موثر نظام بنایا جبکہ نیب راولپنڈی میں جدید ترین فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کردی گئی ہے ۔ انسداد رشوت ستانی کے شعبہ کو مربوط بنانے کے حوالہ سے چین کیساتھ ایم او یو پر دستخط بھی کردیئے ہیں۔معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور سماجی اقدار کے تحفظ کیلئے احتساب کا فعال نظام ناگزیر ہے ۔ نیب بڑے پیمانے پر عوام سے لوٹ مار،اختیارات کے ناجائز استعمال، منی لانڈرنگ ، سرکاری فنڈز میں خوردبرد،ہاؤسنگ سوسائٹیزاورکوآپریٹو سوسائٹیزمیں میگا کرپشن سے ترجیحی بنیادوں پر نمٹاتاہے ۔نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں براہ راست 71ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے ، سینکڑوں متاثرین اور سرکاری اداروں کو لوٹی گئی رقوم برآمد کر کے تقسیم کی گئیں، تاہم نیب افسروں نے ان میں سے ایک پائی بھی وصول نہیں کی کیونکہ بدعنوانی کا خاتمہ قومی فرض سمجھتے ہیں۔ کراچی (سٹاف رپورٹر)قومی احتساب بیورو کراچی نے مختلف بھرتیوں کے معاملہ پرسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کیخلاف ریفرنس دائر کر نے کی سفارش کردی ۔ نیب کراچی کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے بحیثیت وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایم ڈی پاکستان سٹیٹ آئل شیخ عمران الحق اور دیگر کی بھرتیوں میں قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کی جس سے سرکاری خزانے کو 138.93ملین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ۔نیب انویسٹی گیشن کے دوران انکشاف ہوا کہ عمران الحق کی تقرری میں تعلیمی اور پیشہ روانہ قابلیت کو مد نظر نہیں رکھا گیا اورایم ڈی پی ایس اونے ایل این جی ٹرمینل کے قیام کے دوران سابق وزیر پٹرولیم کیساتھ ذاتی تعلقات بڑھائے جو قومی خزانے کیلئے 13کروڑروپے سے زائد کے نقصان کا سبب بنے ۔