مکرمی! امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی جو پیش کی ہے اس پر ہمارے ملک کا ایک طبقہ بغلیں بجارہا ہے۔کسی شخص کی ثالثی اسی صورت میں نتیجہ خیزہوسکتی جب تنازعہ کے تمام فریق اس مقصد کے حصول کیلئے متفق ہوں۔ کیا بھارت کے توسیع پسندانہ اور جنگ جو مزاج کاحامل برسر اقتدار طبقہ ثالثی کی پیش کو قبول کرچکا ہے.. آزادی کے بعد بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواھر لال نہرو نے اقوام متحدہ کے فورم پر کشمیر کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا تھا۔ اقوم متحدہ کی قراردادیں کشمیر کے مقہور ومظلوم عوام کے حق استصواب رائے کو تسلیم کرچکی ہیں لیکن بھارت اپنی ھٹ دھرمی پہ قائم رہتے ہوئے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے) کا راگ الاپتا رہتا ہے۔ اگر ڈولڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل چاہتے ہیں تو انہیں بھارت کو اقوم متحدہ کی منظور شدہ قرادادوں کے مطابق حل پر مجبور کرنا چاہئے کیونکہ یہی حل خطہ کے امن وسلامتی کا ضامن ہے ۔ (اظفر صدیقی، لاہور)