مکرمی !گذشتہ دنوں میں ایک پارک میں موجود تھا۔ ایک بوڑھی عورت اپنے کمسن بچے کے ہمراہ پاپڑ پیچ رہی تھی ۔ میں نے ایک پاپڑ خرید لیا ۔ جانے لگی تو اس سے پوچھا : ’’ جی چاہے تو خود بھی کھاتی ہو یہ پاپڑ؟ یا اپنے بچے کو کھلاتی ہو‘‘ ۔ اس نے نگاہیں جھکا لیں ۔ میں نے ایک پاپڑ اور مانگا ۔ اس نے نکالا تو میں بولا : ’’اسے کھائو اور بچے کو بھی کھلائو‘‘ ۔ یہ سن کر وہ بوڑھی خاتون پریشان سی ہو گئی ۔ میں نے کہا ، گھبرائو نہیں ، پیسے دوں گا ۔ اس نے جھجکتے ہوئے اور نم آنکھوں کے ساتھ پاپڑ پہلے بچے کو دیا ، پھر تھوڑا سا خود لیا ۔ اپنے بچے کے چہرے پر خوشی دیکھ کر اسے بھی طمانیت ہوئی ۔ پیسے ملنے پر اس نے بقایا دینا چاہا ۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا ، رکھ لو ۔ اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو اور زبان پر دعائیں تھیں ۔ ہم روزانہ اپنے اطراف میں ایسے کئی مجبور لوگ دیکھتے ہیں جو صرف ایک وقت کی روٹی کی خاطر ایسی اشیاء بیچ رہے ہوتے ہیں ۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ پارکوں میں اور ٹریفک اشاروں پر چھوٹی موٹی چیزیں بیچ کر رزق کمانے والوں سے ہم بلاوجہ کچھ خرید لیا کریں ۔ ہم ان کی اس مجبوری کا علاج تو کر سکتے ہیں نا۔۔ ایک چھوٹی سی خوشی دے کر ؟ ۔ کیا معلوم کب ، کس کی دعا ہمارے کام آ جائے ۔ (محمد نورالہدیٰ لاہور)