لاہور(کرائم رپورٹر) آ ئی جی کے حکم پر حوالا تو ں میں لگے کیمروں کے با وجو د پو لیس کی نا اہلی کے با عث تھانہ اکبری گیٹ میں دوبچوں سے زیادتی کے الزام میں حوا لا ت بند ملزم نے مبینہ خودکشی کرلی،ملزم کو دو روز قبل پولیس نے حراست میں لیا تھا،آئی جی پنجاب کیپٹن(ر)عارف نواز نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے ، متوفی کے اہل خانہ نے تھانہ اکبری گیٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی،ورثاء نے مردہ خانے میں بھی ہنگامہ آرائی کی۔بتا یا گیا ہے کہ اکبری گیٹ پولیس نے محمد قذافی کے بیا ن پر ملزم محمد ذیشان ولد ہیرا کے خلاف بچوں سے زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔گزشتہ روز ملزم نے لاک اپ کے باتھ روم کی سلاخوں میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی،واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان نے خود جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔انہوں نے متعلقہ افسران سے وقوعہ کی تفصیلات حاصل کیں اور معاملے کی تحقیقات کی ہدایات دیں۔اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ حوالات میں لگے کیمروں کی فوٹیج کا بھی جائزلیا جارہا ہے ۔غفلت برتنے پر سخت محکما نہ کا رروا ئی کی جا ئے گی۔پولیس کے مطابق تھانہ کی لاک اپ میں اس وقوعہ کے موقع پر اور بھی انڈر ٹرائل ملزمان موجود تھے ۔فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرلئے جبکہ ایس ایس پی آپریشنزاسماعیل کھاڑک معاملہ کی مزید انکوائری کر رہے ہیں۔ذیشان کی ہلاکت کی اطلاع پر ورثاء اور محلے داروں کی بڑی تعداد تھانے کے باہر پہنچ گئی جنہوں نے پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ورثاء نے پولیس پر تشدد کر کے قتل کا الزام لگایا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی،مظاہرے کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں بعد ازاں ورثاء کی بڑی تعداد مردہ خانے پہنچ گئی اور وہاں ہنگامہ شروع کردیا،مظاہرین نے پولیس اہلکاروں سے بھی ہاتھا پائی کی۔ورثاء کی جانب سے ایک شہری کو بھی تشدد کا نشانا بنایا گیا۔