صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین برسوں میں ملک و قوم میں بہت مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ شور کے بجائے حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی۔ صدارتی خطاب کے دوران اپوزیشن نے بینرز اٹھا کر سپیکر ڈائس کے سامنے بھرپوراحتجاج کیا ۔ تیسرے پارلیمانی سال کی تکمیل اور چوتھی پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں صدر مملکت نے تحریک انصاف حکومت کی تین برسوں کی کارکردگی پر مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے معیشت کے مثبت سمت کی جانب گامزن ہونے پر روشنی ڈالی۔ کورونا کے باعث جب پوری دنیا سے کاروباری رابطے کٹ چکے تھے ۔ ہر ملک نے اپنے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانے کے لیے لاک ڈائون کر رکھا تھا۔ فیکٹریاں‘ ملیں اور کاروباری ادارے بند پڑے تھے۔ ان حالت میں پاکستانی معیشت نے ترقی کی ہے۔ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تھا، تب زرمبادلہ کے ذخائر آٹھ ارب ڈالر تھے لیکن اب حکومتی کاوشوں سے 29 ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت نے کرپشن‘ ٹیکس چوری، حوالہ اور ہنڈی کے ذرائع بند کرکے بیرون ملک پاکستانیوں کو ایک صاف ستھرا ماحول فراہم کیا ہے۔ اب بیرون ملک پاکستانی بینکوں کے ذریعے رقم بھیج کر ملک کی گرانقدر خدمت کر رہے ہیں۔ اگست کے مہینے میں 2.7 ارب ڈالر کی خطیر رقم سمندر پار پاکستانیوں نے بھیجی ہے۔ ماضی کی حکومتیں بھی ایسے اقدامات کر کے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک محفوظ راستہ فراہم کرسکتی تھیں لیکن ماضی کے ادوار میں تو حکمران جماعتوں اور ان کے ساتھ وابستہ سیاسی رہنمائوں اور ان کے خاندانوں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر بیرون ملک پیسے بھیجے،ایسے ایسے پلازے کرائے پر دیئے گئے تھے جن کی ابھی تک تعمیر بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے موجودہ حکومت کو یہ کریڈٹ تو دینا پڑے گا کہ اس کے تین سالہ دور میں ایسا کوئی گھپلا سامنے نہیں آیا۔ پانچ اگست 2019ء کو جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں پر زمین تنگ کردی تھی، تب وزیراعظم عمران خان نے کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کیا اور جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی کی جبکہ وزارت خارجہ نے بھی کشمیر کے مسئلے کو بھرپور طور پر اجاگر کیا اور کشمیریوں کو تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ حریت رہنما سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے جو کچھ کیا نہ صرف اس کی مذمت کی بلکہ عالمی برادری کو ثبوتوں کے ساتھ بتایا کہ بھارت داعش کی سرپرستی کر کے دنیا کو ایک بار پھر تباہی کی جانب لے جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے بھارت کی ہندو توا پالیسی کے خلاف بھرپور آواز بلند کی اور اسے علاقائی سالمیت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا جبکہ ماضی میں کشمیریوں کی حمایت کو پیش پشت ڈال کر حکمران جماعت نے مودی سرکار کو شادیوں پر دعوت دی تھی۔ اس لیے موجودہ حکومت کو یہ کریڈٹ بھی دینا پڑے گا کہ اس نے کشمیر کاز کے لیے بھرپور کام کیا ہے۔ حکومت نے ٹیکس اصطلاحات کا نفاذ کر کے عوام کو ٹیکس کی جانب متوجہ کیا۔ ماضی کی نسبت اب لوگ ٹیکس ادا کرنا شروع ہو چکے ہیں۔ایف بی آر نے گزشتہ سال کے مقابلے میں18 فیصد سے زائد ٹیکس اکٹھے کئے ہیں۔ درحقیقت ماضی میں اوپر سے لے کر نیچے تک ہر کوئی ٹیکس چوری کرتا تھا۔ جب حکمران خود ٹیکس چوری کریں تو عام لوگ اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں کی دیکھا دیکھی ہر کوئی ٹیکس چوری کرنا شروع ہوگیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے ٹیکس چوروں کے خلاف سخت قوانین بنائے اور لوگوں کو ٹیکس ادا کرنے کے لیے بھرپور کمپین چلائی، جس کے باعث لوگ ٹیکس ادا کرنے کی جانب راغب ہوئے۔ اس وقت نہ صرف ایف بی آر مطلوبہ اہداف حاصل کر رہا ہے بلکہ لوگ خود ٹیکس اداکرتے نظر آتے ہیں۔ صدر مملکت کا خطاب ہر لحاظ سے مناسب تھا‘ انہوں نے تمام تر کارکردگی کا احاطہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ عوام کو بھول گئے، جنہوں نے ووٹ دے کر تحریک انصاف کو اقتدار میں پہنچایا تھا،ان کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی حکومت کے تین برس عوام پر بڑے بھاری گزرے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا سے لے کر پہننے اور ادویات تک ہر چیز مہنگی ہوئی ہے۔اشیاء خورونوش تو عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ آٹا‘ گھی‘ سبزیاں‘ دالیں اور مصالحہ جات کی اگر بات کی جائے تو ان میں بھی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک غریب آدمی دس پندرہ ہزار میں اچھی گزر بسر کر سکتا تھا لیکن اب تو اتنے پیسوں میں بجلی اور گیس کا بل ہی ادا نہیں ہوتا۔ غریب آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ اس لیے صدر مملکت جو صرف پی ٹی آئی کے صدر نہیں بلکہ پورے ملک کے صدر ہیں ،انہیں اس پر کچھ کہنا چاہیے تھا کیونکہ مہنگائی اور بیروزگاری کا جب حکومتی کارکردگی سے تقابل کیا جاتا ہے تو حکومتی کارکردگی اس کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ لٰہذا جب تک حکمران جماعت مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو پا کر غریب آدمی کو ریلف فراہم نہیں کرتی، تب تک اس کی کارکردگی نظر نہیں آئے گی۔ صدر مملکت بھی حکمران جماعت پر زور ڈالیں کہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ جب غریب خوش حال ہوگا، اسے پیٹ بھر کر روٹی ملے گی تو حکومتی کارکردگی خود بخود سامنے آئے گی اور ہر کوئی اس کا معترف ہوگا۔