اسلام آباد (لیڈی رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدارتی آرڈی نینسز کے اجرا کیخلاف درخواست پر عدالتی معاون رضا ربانی کو جواب اور تجاویز جمع کرانے کیلئے 18 فروری تک مہلت دے دی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صدارتی آرڈی نینسز کے اجرا کیخلاف مسلم لیگ ن کے رہنمائو ں کی درخواست کی سماعت کی۔ پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نے بطور عدالتی معاون تحریری جواب جمع کرایا جبکہ پیپلزپارٹی رہنما سینیٹر رضا ربانی نے تجاویز تیار کرنے کیلئے مہلت طلب کی۔ وزارت قانون و انصاف نے رپورٹ جمع کرائی۔ سیکرٹری قانون نے جواب میں کہا کہ آئین میں صدر مملکت کو آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کا اختیار حاصل ہے ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن حکومتوں نے 2008 سے 2018 کے دوران 10 سال میں 170 صدارتی آرڈیننس پاس کئے ۔ بعد ازاں عدالت نے رضا ربانی کی استدعا منظور کر لی اور ڈاکٹر بابر اعوان کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ دوسری جانب جسٹس محسن اختر کیانی کی عدم موجودگی کے باعث سزا پوری کرنیوالے چار بھارتی قیدیوں کی رہائی کیلئے بھارتی ہائی کمیشن کی درخواست کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی ۔