اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی)وفاقی حکومت کی جانب سے فرٹیلائزر سمیت5 شعبوں سے وابستہ بااثر تاجروں کو گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں208 ارب روپے معاف کرنے کے باوجود بقایا 50فیصد رقم وصولی کی راہ ہموار نہیں ہوسکی۔ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں گزشتہ 6سال کے دوران ملک بھر کے کسانوں سمیت عوام سے وصول شدہ 416ارب روپے قومی خزانے میں جمع نہیں کروائے گئے ۔مختلف صنعتوں کے مالکان نے وزارت خزانہ سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کے بقایا جات پر 40ارب روپے مزید معاف کرنے کا مطالبہ کردیا ۔ بااثر صنعتکار سرچارج کی ادائیگی میں تاخیر پر لیٹ پے منٹ سرچارج اداکرنے کیلئے تیار نہیں۔ وزارت خزانہ نے تاجروں کیساتھ کئی اجلاسوں کے بعد 416ارب روپے کے بقایا جات میں سے 50فیصد رقم معاف جبکہ 50فیصد رقم قومی خزانے میں جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا جسکے بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے 24جنوری کو وفاقی کابینہ سے 208ارب معاف کرنے کی منظوری حاصل کی تھی۔92نیوز کوموصول سرکاری دستاویز کے مطابق 2011میں پیپلزپارٹی حکومت نے تاپی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور دیگر گیس منصوبوں اورانفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے مختلف شعبوں میں گیس کے استعمال پر 100روپے تا260روپے فی ایم ایم بی ٹی یو گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج گھریلو صارفین کے سوا دیگر تمام شعبوں پر عائد کیاتھا ۔ فرٹیلائزر سمیت مختلف شعبوں کے تاجروں نے عوام سے سرچارج کی وصولی جاری رکھی مگر حکم امتناع حاصل کرتے ہوئے سرچارج کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کا سلسلہ ترک کردیا ۔ یہ رقم تاجرحضرات بینکوں میں رکھ مالی فائدہ حاصل کرتے رہے ،حکومت نے ایل این جی پائپ لائن اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے بینکوں سے قرض لے کر منصوبے مکمل کئے جسکا بوجھ گیس صارفین پر ڈال دیا گیا ۔دستاویز کے مطابق اینگروفرٹیلائزر سمیت کھاد کارخانوں کے مالکان کو کسانوں سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں وصول شدہ 69ارب روپے معاف کئے گئے ہیں۔ اربوں روپے معاف کرنے کیساتھ فروری 2019 سے سرچارج کا ریٹ بھی 50فیصد کم کردیا گیا ۔کیپٹوپاورپلانٹس کے مالکان کو 91ارب جبکہ سی این جی مالکان کو 80ارب معاف کردئیے گئے ۔ آئی پی پیز کو 4.8ارب،کے الیکٹرک اور جنکوز کو 28ارب روپے معاف کردئیے گئے ۔جنرل انڈسٹری سے وابستہ مالکان کو 21ارب معاف کردئیے گئے ۔2012سے 2018تک عوام سے 701ارب روپے وصول جبکہ قومی خزانے میں صرف 285ارب روپے جمع کرائے گئے ۔50فیصد رقم معاف ہونے کے باوجود بیشتر مالکان بقایا رقم بھی ادا کرنے کو تیار نہیں۔ اینگرو اور دیگر فرٹیلائزر پلانٹس مالکان یوریا کھاد کی بوری پر 405روپے کسانوں سے مسلسل وصول کرنے کے باوجود خزانے میں رقم جمع نہیں کرارہے ۔ وزارت خزانہ حکام کے مطابق اینگرو اورفاطمہ فرٹیلائزر سمیت بااثر کھاد کارخانوں کے مالکان نے کسانوں سے یوریا کھاد کی فروخت پر سرچارج کی مد میں 138ارب وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے اپنے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرادئیے ۔ 2016سے گیس سرچارج کے خلاف حکم امتناع حاصل کرنے کے باوجود کسانوں سے 405روپے فی بوری سرچارج وصولی کا سلسلہ جاری ہے ۔ اینگرو فرٹیلائزر کمپنی نے سب سے زیادہ32ارب قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے اپنے اکائونٹس میں رکھے ۔