بنوں کے علاقے جانی خیل میں چار کم عمر نوجوانوں کے قتل کے بعد 8 روز سے جاری دھرنا حکومت سے مذاکرات کے بعد ختم کردیا گیا ہے۔ ضلع بنوں میں شدت پسندوں کی طرف سے کارروائیاں معمول بن چکی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بنوں میں شدت پسندوں نے ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم کیلئے کام کرنے والی چار خواتین کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا ۔اس وقت بھی مقامی افراد کی طرف سے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے او رشدت پسندوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ جانی خیل میں شکار کیلئے گئے چار کم عمر دوستوں کو قتل کردیا گیا۔ بچوں کے لاپتہ ہونے پر مقامی لوگوں نے انتظامیہ کو اطلاع دی ۔ انتظامیہ کی طرف سے تساہل برتے جانے پر مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کی لاشیں تلاش کیں اور انتظامیہ کیخلاف احتجاج شروع کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انتظامیہ فوری طور پر مظلوموں کی داد رسی کے لیے پہنچتی مگر صوبائی حکومت کی طرف سے واقعہ کو اس حد تک نظر انداز کیا گیا کہ مقامی سیاسی جماعتوں کے علاوہ شدت پسند تنظیموں کو بھی احتجاج کو اپنے ایجنڈے کیلئے استعمال کرنے کا موقع مل گیا یہاں تک کہ جب مقامی قبائل نے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا تب صوبائی حکومت متحرک ہوئی اور مذاکرات کے بعد دھرنا ختم ہوا۔ بہتر ہوگا حکومت واقعہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیساتھ انتظامیہ کی تساہل پسندی کا بھی نوٹس لے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔