لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے ،کامرس رپورٹر) کرونا کے پیش نظرجزوی لاک ڈاؤن کی آڑ میں گرانفروشی عروج پر پہنچ گئی ،شہری گرانفروش مافیا کے رحم و کرم پر جبکہ ضلعی انتظامیہ نے آنکھیں موند لیں۔بتایا گیا ہے کہ دکانوں پر دکانداروں کی جانب سے من مانیاں جاری ہیں اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بھی غائب ہوگئے ہیں۔شہر میں سبزیوں ، پھلوں اور دیگر کئی اشیاء ضروریہ100فیصدسے زائدقیمت میں فروخت ہونے لگی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی ساری توجہ اس وقت کرونا پر ہے جبکہ گرانفروشی کے حوالے سے کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گرانفروشوں نے مصنوعی مہنگائی کا بازار گرم کر دیا ہے جس سے بحث وتکرار بھی معمول بن گئی ہے ۔سبزیوں اور پھل فروشوں نے گرانفروشی کی انتہا کر دی ہے ۔علاوہ ازیں کرونا کے باعث لاک ڈاؤن کے دوسرے روز شہریوں کی بڑی تعداد یوٹیلیٹی سٹورز پر خریداری کیلئے پہنچی اور وہاں آٹا اورچینی کی قلت کے باعث ان کو شدیدپریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا جلد فراہم کرے ، گھر کے راشن میں آٹا سب سے اہم چیز ہے ۔دریں اثناضلعی انتظامیہ لاہور نے کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر سٹورز، بینکوں اور رش والی دیگر جگہوں پر قطار مینجمنٹ سسٹم متعارف کرا دیا جس کا مقصد وبا سے بچائو کیلئے لوگوں کے درمیان مناسب فاصلے کو یقینی بنانا ہے ۔ڈی سی لاہور دانش افضال نے کہا کہ رش والی جگہوں پر سماجی فاصلے کیلئے نشانات لگوا رہے ہیں۔ عوام طبی و قومی ذمہ داری کا ثبوت دیں۔