لاہور(نمائندہ خصوصی سے ،کامرس رپورٹر) وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سیاسی نمبر گیم کے لیے قائم نہیں کیا گیا اس کا مقصد مقامی سطح پر عوام کو سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور میں بہتری ہے ۔الگ سیکرٹریٹ کی موجودگی میں بھی درخواست گزاروں کے مسائل حل نہ ہوں تو سیکرٹریٹ کا قیام بے سود ہے ۔ محکمہ صنعت نئے کاروبار کے آغاز کے لیے پیشہ ورانہ تربیت اور آسان قرضوں کی فراہمی کے ساتھ استفادہ کرنے والوں کو سمیڈا کی طرز پر کاروبار کا ماڈل بھی مہیا کرے تاکہ پہلی بار کاروبار کرنے والوں کے لیے نقصان کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے ۔اس امر کا اظہار انہوں نے کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے 41ویں اجلاس کے شرکا سے خطاب میں کیا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے 14سے زائد سفارشات پیش کی گئیں جن میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے نئے اخراجات(SNE)اور ہاؤس رینٹ میں اضافے ،یکم جولائی سے 30ستمبر تک کورونا کی روک تھام کے لیے سامان کی خریدو فروخت اور درآمد پر انفراسٹریکچر ڈویلپمنٹ سیس میں چھوٹ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پراجیکٹس کو سیلزٹیکس سے استثنیٰ، میرج ہالز کو ٹیکس میں مزید ریلیف، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت ایم اینڈ آر ونگ کا قیام اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں بھرتیوں کی منظوری شامل تھیں۔