الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نوجوانوں اور طلباء کی انتخابی عمل میں شمولیت کے لئے کوشش شروع کر دی ہے۔ اس سلسلہ میں طلبائ، ووٹر ،تعلیم و آگاہی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے اور اب تک پاکستان کے مختلف سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 1640سے زائد ورکشاپ منعقد کی جا چکی ہیں۔ پاکستان کا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جن کی زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن ان میں سیاسی و سماجی تربیت کا فقدان بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔تحریک پاکستان میں بھی نوجوانوں نے ہراول دستے کا کردا ادا کیا تھا لیکن آج کے پاکستانی نوجوان کو بیروز گاری ، تعلیمی سہولتوں کی عدم دستیابی اور غیر یقینی مستقبل کے حوالے سے یاسیت کا سامنا ہے۔ نوجوانوں میں ووٹ کی اہمیت اجاگر کرنا‘ انہیںانتخابی عوامل کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں انتخابی عمل میں فعال کردار ادا کرنے کی طرف راغب کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی سیاسی و انتخابی عمل کے حوالے سے مایوسی و بے یقینی اور شکوک و شبہات دور کرنا بھی ضروری ہیں ۔سیمینارز اور ورکشاپس بھی اس وقت کارگر ہو سکتے ہیں جب نوجوانوں کوسیاسی، سماجی اور معاشی طور پر محفوظ مستقبل کی نوید سنائی جائے اور ان کی بات بھی سنی جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی نوجوانوں اور طلبہ میں گزشتہ ایک دہائی میں سیاسی و سماجی مسائل کاادراک کرنے کا گہراشعو ر بیدار ہواہے جس پر ان کے مستقبل کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ لہذا ان مسائل پر بھی ورکشاپس منعقدکی جانی چاہیئں۔