واشنگٹن( ندیم منظور سلہری سے ، نیوزایجنسیاں ) امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے صدارتی دفتر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور 17 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط بھی کردیے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جوبائیڈن نے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی ٹرمپ دور کے کئی فیصلے واپس لینے کے احکامات دئیے جن میں بعض مسلم اکثریتی ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں امیگریشن پر پابندی ختم کرنے کا بل بھی شامل ہے ۔ جو بائیڈن نے جن ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے اُن میں وفاقی ملازمین کے دفتری اوقات میں ماسک لازم کرنے کے علاوہ کورونا وائرس کے بحران پر قابو پانے سے متعلق ہدایات شامل ہیں۔جوبائیڈن نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 2015 کے پیرس معاہدے میں واپسی اور عالمی ادارہ صحت میں دوبارہ شمولیت کے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے ۔امریکی صدر کے احکامات کے تحت نوجوان تارکین وطن کو تحفظ دیا جائے گا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر روک دی جائے گی۔ جو بائیڈن نے کہا نئی ہدایات جاری کرنے کیلئے وقت ضائع نہیں کیا جا سکتا اور ابھی یہ ابتدا ہے ۔ وائٹ ہائوس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا صدر بائیڈن نے پہلا حکم کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جاری کیا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی متازعہ پالیسیوں کو ختم کرنے کیلئے متعدد حکمنامے جاری کیے ۔صدر نے سفارتکاری کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر خدشات دور کرنے کاکہا ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں ایران دوبارہ جوہری معاہدے میں شامل ہو۔ادھر امریکی صدر اور نائب صدر نے منصب سنبھالتے ہی ٹوئٹر اکائونٹ کا مورچہ بھی سنبھال لیا۔اپنی پہلی ٹویٹ میں جوبائیڈن ن کا کہنا تھا میں فوری طور پر چار کام کرنے کیلئے مستعد ہو چکا ہوں، ان میں کورونا وبا کا خاتمہ، عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنا،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا اور نسلی مساوات کو فروغ دینا شامل ہیں۔ کمالا ہیرس نے اپنی پہلی ٹویٹ میں کہا وہ خدمت کیلئے تیار ہیں۔دریں اثناء جو بائیڈن کو دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر کے اختیارات کیساتھ 22 کلو وزنی ایک سوٹ کیس بھی پیش کردیا گیا ہے جس میں امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے والے خفیہ کوڈ موجود ہیں۔یہ سوٹ کیس ہر وقت امریکی صدر کے قریب رہتا ہے اور عام طور پر جانے والا صدر آنے والے صدر کو اپنی موجودگی میں یہ سوٹ کیس پیش کرتا ہے مگر چونکہ ٹرمپ بائیڈن کی جیت کو تسلیم نہیں کرتے اور حلف برداری کی تقریب کے وقت وہ واشنگٹن کی بجائے فلوریڈا چلے گئے تھے اسلئے سوٹ کیس کی منتقلی ایک مسئلہ بن گئی۔ تاہم امریکی حکام نے ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک فارمولا بنا رکھا ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ کے پاس موجود جوہری فٹبال اور اسکے کوڈ 20جنوری کو 11بجکر59منٹ پر خودکار طریقے سے ناکارہ ہوگئے تھے لہذا پروٹوکول کے مطابق صدر بائیڈن کو پورے 12بجے نیا جوہری فٹبال اور بسکٹ مہیا کردیا گیا۔علاوہ ازیں ڈیموکریٹس کو سینٹ میں بھی غلبہ حاصل ہوگیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ روز جارجیا اور کیلیفورنیا سے مزید دو ارکان نے سینٹ کی رکنیت کاحلف اٹھایا جس کے بعد سینٹ میں ڈیموکریٹس کو دس سال کے بعد پہلی بار اکثریت حاصل ہوئی ۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے جوبائیڈن کے ماحولیاتی معاہدے میں واپسی اور عالمی ادارہ صحت میں دوبارہ شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ گلوبل وارمنگ کیخلاف موثر منصوبہ بنائیں۔وائٹ ہاؤس نے بتایا صدر جوبائیڈن پہلی کال کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کو آج کریں گے ۔پوپ فرانسس نے صدر جوبائیڈن کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر میں مفاہمت اور امن کو فروغ دیں اور لوگوں کے حقوق اور انکی عزت اور وقار کا خیال رکھیں۔ جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر، فرانسیسی صدر میکغوں، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو، اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو، بھارتی وزیراعظم مودی، جاپانی وزیراعظم یوشی ہیدے سوگا اور دیگر سربراہان مملکت نے عہدہ صدارت سنبھالنے پرجوبائیڈن کو مبارکباد دی۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے سائوتھ ایشیا اور مڈل ایسٹ میں ٹرمپ کی پالیسیوں کا تسلسل دیکھنے کو ملے گا، بائیڈن انتظامیہ چین کو فری ہینڈ نہیں دیگی۔ لیکن اسکے ساتھ بیجا محاذآرائی بھی نہیں کرے گی ۔بھارت اور پاکستان کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسیوں کا کسی حد تک اثر دیکھا جاتا رہے گا ۔موجودہ صورتحال میں بھارت کو بالکل نظرانداز نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو چین کے سامنے کھڑا کر کے اپنے مقاصد حاصل کیے جائیں گے ۔