مکرمی! ہم آئے دن خبروں میں سنتے رہتے ہیں کہ فلاں جگہ موٹر سائیکل یا کار حادثے میں اتنے بچے زخمی ہو گئے اور اتنے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ سن کر دل میں رنج اور دکھ کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔وہ ننھے پھول جنہیں کل کو شجر کا روپ دھار کر تپتی دھوپ میں سائبان بننا ہوتا ھے وہ اپنی نادانی اور کم علمی میں اپنے گھروں کے چراغ بجھا جاتے ہیں۔اس ضمن مین والدین کا کردار انتہاء لا پرواہ اور کسی حد تک مجرمانہ ہے۔جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہم کچھ دیر کیلئے تو اس کرب میں مبتلا رہتے ہیں اور آئندہ احتیاط کرنے کا سوچتے ہیں۔ مگر قانون کی پاسداری کا بالکل زہن میں نہیں لاتے۔ حالانکہ ان تمام حادثات میں سے زیادہ تر کی بنیادی وجہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں 18 سال سے کم عمر افراد کا موٹر سائیکل یا کار چلانا خلاف قانون ہے۔ اس کے علاوہ ون ویلنگ قانونا ایک جرم ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں بچہ چلنا شروع نہیں کرتا اور ہم اس کے ہاتھ میں موٹرسائیکل تھما دیتے ہیں حالانکہ اس کے پاوں بھی زمین پر ٹھیک طرح سے نہیں لگ رہے ہوتے۔ ان حادثات کی وجہ ہماری بے احتیاطی ہے۔فطرت انسانی ہے کہ طبعی موت کا زخم تو کچھ عرصے میں بھر جاتا ہے مگر حادثاتی موت کا دکھ تاحیات گہرا رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم قانون کی پاسداری کا احترام کریں اور 18 سے سال سے کم عمر بچوں کو موٹرسائیکل/کار بالکل نہ دیں۔ تاکہ نسل نو کو حادثاتی موت سے بچایا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ قانون کی پاسداری پر عمل و درآمد یقینی بنایا جائے۔ (ہشام عظمت شامی ،بوریوالہ)