لاہور (کامرس رپورٹر،نامہ نگارخصوصی، 92 نیوز رپورٹ،نیوز ایجنسیاں)پنجا ب حکومت نے چینی سکینڈل میں نامزد ملزم اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے حامی اور ان سیرابطہ کرنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی فہرست تیار کرلی۔ ذرائع وزیراعلیٰ ہائوس نے بتایا جہانگیر ترین کے حامی اورور رابطے کرنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی فہرست وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ان کو پیش کرینگے ۔جہانگیر ترین اور بیٹے علی ترین بنکنگ کورٹ پہنچے تو ان کے ہمراہ صوبائی وزراء نعمان لنگڑیال، نذیر بلوچ، راجا ریاض، سلیمان نعیم، غلام بی بی بھروانہ، خرم لغاری، چوہدری افتخارگوندل، اسلم بھروانہ، طاہر رندھاوا اور امیر محمد خان بھی تھے ۔ صحافی نے جہانگیر ترین سے سوال کیا کہ آپ کے ساتھ وزراء اور ایم پی اے بھی آئے ہیں۔ جہانگیر ترین نے کہادوستوں نے مجھے فون کر کے کہا آپ اکیلے کیوں جائیں گے ہم نے آپ کے ساتھ جانا ہے ۔ جہانگیر ترین نے حکومت سے گلہ کرتے ہوئے کہا انتقامی کارروائی کیوں؟۔مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبرکاکہنا ہے احتساب سب کے لیے برابر ہے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ احتساب اور قانون کی بالادستی کا نعرہ لگا کر دوسروں کو پکڑیں اور اپنوں کو چھوڑ دیں۔لاہور میں فردوس عاشق اعوان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو میں مشیراحتساب نے کہاکسی کو دیوار سے لگایا جارہا نہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ،مشیراحتساب نہ ہوتاتوشایدمیں بھی جہانگیرترین کیساتھ عدالت تک جاتا،جہانگیرترین سے ارکان اسمبلی کی ملاقات کوئی بڑی بات نہیں،ساتھ جانے کا مقصد گروپ بنانا نہیں،انصاف برابری کی بنیادپرہوتاہے اوربرابری یہ ہے کہ اپنے سے بھی سوال کیاجائے ،جہانگیرترین کے تحفظات ہیں تواپنی جگہ ہیں،چینی کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے آگاہ کرنا ضروری ہے ، ایف آئی اے میں شریف فیملی کے خلاف 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے کیسز درج کئے گئے ،تحقیقات تمام افراد کی ہو رہی ہے ، اندازے لگائے جارہے ہیں کہ جہانگیر ترین شاید میرے اورپرنسپل سیکرٹری سے متعلق بات کررہے ہیں، جہانگیر ترین سے میرا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں، میرا رول بہت مشکل، اس میں دوست بھی کھو جاتے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا جہانگیرترین پی ٹی آئی کے پولیٹیکل سٹرکچر کا حصہ ہیں،وزیراعظم نے اپنے دوستوں کے خلاف کارروائی کر کے واضح پیغام دے دیا۔ میڈیا سے گفتگو میں جہانگیر ترین نے کہاتحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں،دوست تھے دشمنی کی طرف کیوں دھکیلاجا رہا ہے ، انتقامی کارروائی کیوں ؟، وفاداری کا ایک سال سے امتحان لیا جا رہا ہے ،میرے خلاف 3 ایف آئی آرز درج ہیں، ایک سال سے چپ ہوں، ظلم بڑھتا جا رہا ہے ، 80 شوگر ملز میں سے انہیں صرف میں نظر آیا ، وجہ کیا ہے ؟ ، میرے اور بیٹے کے اکاؤنٹس کیوں منجمد کئے ؟، کون کر رہا ہے ؟، وقت آگیا انتقامی کارروائی بے نقاب کی جائے ، تحریک انصاف میں ہوں اور رہونگا،آصف زرداری سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں۔ بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کی عبوری ضمانت میں 10 اپریل تک توسیع کرکے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا۔