لاہور(اپنے نیوز رپورٹر سے ،کرائم رپورٹر،این این آئی) احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔دوران سماعت نیب پراسکیوٹر نے کہاحمزہ شہباز تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے ، 96 ایچ ماڈل ٹاؤن کا گھر خریدنے کے لیے رقم کے ذرائع نہیں بتائے ، گھر کی قیمت 14 کروڑ ہے اب تک صرف ڈیڑھ کروڑ کے متعلق پتہ چل سکا، حمزہ کے اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے 18 کروڑ منتقل ہوئے ، صرف 2005 سے 2007 کے دوران ساڑھے پانچ کروڑ کی رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔ حمزہ کے اکاونٹ کا ریکارڈ موصول ہونے پر تفتیش کی جائے گی، باہر سے آنی والی رقوم کے متعلق حمزہ کچھ نہیں بتا رہے ،انہوں نے 2013 سے 2017 تک جوہر ٹاؤن میں مختلف جائیدادیں خریدیں جن کے ذرائع نہیں بتائے اور گوشواروں میں قیمت کم ظاہر کی۔ وکیل حمزہ شہباز امجد پرویز نے کہا 96 ایچ ماڈل ٹاؤن حمزہ شہباز کی والدہ کی ملکیت ہے جو خود مختار ہیں اور اپنا ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ یہ کیس آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے کرپشن کا نہیں، جب ثبوت نیب کو مل چکے ہیں تو پھرحمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے ۔ حمزہ شہباز نے کہا تفتیشی مجھ سے سوال کرتے پھر چپ کرکے بیٹھ جاتے ہیں، میراتین ماہ کا اکٹھا ریمانڈ دے دیں تاکہ نیب والوں کی مشکل حل ہو، مجھے اب تفتیشی افسران پر ترس آنے لگا ہے ، ایک پائی کی کرپشن ثابت ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ عدالت نے کہا سیاسی باتیں عدالت سے باہر ہونی چاہئیں، آپ بے شک سیاست چھوڑ دیں مگر عدالت میں صرف کیس پر بات کریں۔ میڈیا سے گفتگو میں حمزہ شہباز نے کہا وزیر اعظم دس ماہ میں ایکسپوز ہوچکے ، حکومت نے غریب آدمی کا جینا مُشکل کر دیا ، ہمارا ضمیر مطمئن ہے ، کوئی ڈر اور خوف نہیں، نئے پاکستان کا نعرہ ایک فریب تھا، عمران خان جھوٹ کے بے تاج باشاہ ثابت ہوئے ، نیا پاکستان تو دور پرانا پاکستان چیخ رہا ہے ،حکومت کی بنیادیں ہل رہی ہیں، چیئرمین سینٹ کے معاملے پر رہبر کمیٹی فیصلہ کرے گی۔حمزہ شہباز کی نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے ،ن لیگی وکلا کوعدالت میں داخلے سے روکنے پر پولیس اور وکلاء کے درمیان شدید ہاتھا پائی ہوئی۔