واشنگٹن (نیٹ نیوز )امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے کہا ہے انہیں اپنے دور میں ڈرون حملوں کے آرڈر دینے میں کوئی خوشی نہیں ہوتی تھی جس میں ہزاروں دیگر جانوں کابھی ضیاع ہوا لیکن وہ دہشتگردی کیخلاف نرم پہلورکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتے تھے ۔ اپنی نئی یادداشت ’اے پرومسڈ لینڈ‘ میں باراک اوباما نے کہا میں نے کبھی بھی خوشی محسوس نہیں کی اور نہ ہی کبھی خود کو طاقتور محسوس کیا۔ انہوں نے لکھایمن اور افغانستان، پاکستان اور عراق جیسی جگہوں پر مایوسی کا شکار لاکھوں نوجوان اکثر دانستہ اور لاشعوری طور پر ظالمانہ کارروائیوں کا حصہ بنے ۔ میں چاہتا تھا انہیں بچا سکوں، انہیں سکول بھیجا جا سکے ، انہیں تجاری سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے اور ان کے دماغ سے نفرت کو نکالا جا سکے ۔ اس کے باوجود وہ دنیا کا حصہ تھے اور جس مشینری (ڈرون) کا میں نے حکم دیا تھا اس میں اکثر ان کی موت ہوجایا کرتی تھی۔میں بچوں کی بہتر تعلیم، ان کے اہلخانہ کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے ، غریب ممالک کو زیادہ سے زیادہ خوراک کے حصول کیلئے مدد کرنے کی نیت سے سیاست میں داخل ہوا تھا۔لیکن یہ کام ضروری تھا اور یہ میری ذمہ داری تھی کہ ہم یہ یقینی بنائیں کہ ہمارے آپریشن زیادہ سے زیادہ موثر ہوں۔