پشاور(نیوز رپورٹر،صباح نیوز) جمعیت علمائے اسلام ( ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قلعہ فتح کرنے نکلے ہیں، پیچھے ہٹنے کے لئے میدان میں نہیں آئے ، پیچھے ہٹنا حرام ہے ، میدان بھی حاضر ہے اور گھوڑا بھی حاضر ہے ، ہمارے احتجاج نے حکمرانوں کی اکڑ ختم کردی، ان کی گردن سے سریا نکال دیا اور کشتی ڈوبنے والی ہے ، ناجائز حکمرانی نہیں چلنے دیں گے ، کشمیر بک چکا ہے ، معلوم نہیں اس کے بدلے کیا لیا ، یہ کشمیریوں اور پاکستان کے غدار ہیں۔پشاور میں پارٹی سیکرٹریٹ میں پرچم کشائی کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا فتح کے قریب پہنچ رہے ہیں،غداروں کو پاکستان میں حکمرانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا دوسروں کے بارے میں کہتے ہیں احتساب کریں گے لیکن جب فارن فنڈنگ کا معاملہ آتا ہے تو خود احتساب سے بھاگتے ہیں۔ فضل الرحمان نے کہا ایشیائی ترقیاتی بینک سے ہم ایمرجنسی قرض لے رہے ہیں، بحرانی قرضوں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کشمیر کو انہوں نے بیچ دیا ہے ، پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے ،ناجائز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ، ہم اسے گھر بھیجنے تک لڑتے رہیں گے ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا موجودہ حکمرانوں نے پشاور کو کھنڈر میں تبدیل کردیا، بی آر ٹی میں ایک کلومیٹر کی لاگت ڈھائی ارب روپے ہے ، پوراپشاورکھنڈر بنا کر بھی جیت گئے ، اس کو کہتے ہیں دھاندلی، کسی اور شہر میں بی آرٹی کھنڈر ہوتا تو عوام ووٹ نہ دیتے ۔ فضل الرحمان نے کہا پورا پاکستان بی آر ٹی بن چکا ہے ، مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے ، ملک بھر میں 25 لاکھ لوگوں کو بے روزگارکردیا گیا۔انہوں نے کہا بتایا جائے ایک ارب درخت کہاں لگائے ہیں؟20 کروڑ سے زائد درخت ثابت نہیں کرسکتے ، اب کہہ رہے ہیں پورے ملک میں درخت لگائو گا، قوم تحقیقات کا کہتی ہے تو حکمران عدالتوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں، تحریک انصاف کی اپنی حکومت احتساب کمیشن کے شکنجے میں آگئی، احتساب کمیشن نے پی ٹی آئی کا احتساب شروع کیا تو احتساب کمیشن ختم کردیا، آپ کے اپنے کمیشن نے بتایا کہ گزشتہ 10سال میں لئے گئے قرضے صحیح اکائونٹس میں آئے ۔ فضل الرحمان نے کہا عوام نے اس ملک میں آئین کی حکمرانی کا جو سفر شروع کیا ،وہ منزل پر پہنچنے والا ہے ، اپوزیشن کی جماعتیں باہمی یکجہتی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔