اسلام آباد(خبر نگار خصوصی،سپیشل رپورٹر)وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ حکومت کا خزانہ خالی ہے اسلئے حج پر سبسڈی نہیں دے سکتے ۔سینٹ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت ہوا جس میں رواں برس حج کے موقع پر انتظامات اور آئندہ برس حج انتظامات کے حوالے سے امور پر غور کیا گیا۔سیکرٹری وزارت مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ ملائیشین ماڈل پر حج فنڈز کا قیام زیر غور ہے ، فیصلہ کیا کہ 3 سالہ حج پالیسی بنائی جائے ، اس سے عمارتوں کے معاہدے سستے اور اچھے ہوسکیں گے ۔ سیکرٹری مذہبی امورنے کہا کہ اس سال سعودی حکومت نے 2 مکاتب کے معلموں کو بلیک لسٹ کیا۔ نور الحق قادری نے کہا کہ متواتر حج کرنے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں اس سال حج انتظامات بہترین تھے ،سینیٹر مومن آفریدی نے کہاکیاہم حج پرسبسڈی نہیں دے سکتے ؟ وفاقی وزیرنے کہا حکومت کا خزانہ خالی ہے ، سبسڈی نہیں دے سکتے ۔ مشائر کے دوران انتظامات پر وزیراعظم سے بات کی ہے کہ وہ سعودی شاہ سے بات کریں۔ ارکان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شکایات کے انبار لگے ہوئے ہیں۔کمیٹی نے حج انتظامات پر سینیٹر حافظ عبدالکریم کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی۔ادھر قائمہ کمیٹی برائے سرحدوں وریاستی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ساجد حسین طوری کی صدارت میں ہوا ۔اجلاس میں ایم این اے علی وزیر نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں سفارش کی گئی کہ وزارت سیفران فاٹا کے طلبہ کا میڈیکل کالجز میں کوٹہ ڈبل کرنے کیلئے خود اقدامات کرے ۔ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شکور شاد نے اپنی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ فاٹا کے معاملات بگڑتے جارہے ہیں، حکومت کہتی ہے کہ ہم ریلیف دے رہے ہیں ، یہ ریلیف کہاں ہے ،ہمیں نظر نہیں آرہا ،پیسے کہاں خرچ ہورہے ،ہمیں پوچھا تک نہیں جاتا۔ علی وزیر نے خیبرپختونخواحکومت کے ترجمان اجمل وزیر پرالزام لگایاکہ وہ پیسے لے رہے ہیں جس پر علی وزیر اور شاہد خٹک کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی ، علی وزیر کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ اجلاس میں اجمل وزیر کے حوالے سے ثبوت لائیں گے ،جو غلط ہو رہا ہے اسکی نشاندہی کرنا ہمارا حق ہے ۔دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس ڈی جی ایف آئی اے ، ڈی جی نیکٹااور سیکرٹری داخلہ کی عدم حاضری پر ملتوی کر دیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کی عدم موجودگی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ معاملے کو قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط واستحقاق میں اٹھایا جائے گا۔