پچھلے آٹھ سال میں پہلی بار عمران خان کے لئے ہمدردی محسوس کر رہا ہوں۔ اس ہمدردی کا یہ مطلب نہیں کہ میں خدا نخواستہ ان کی جماعت کو ووٹ دینے کے بارے میں سوچنے لگا ہوں ۔ ووٹ توا نہیں نہیں دیا جاسکتا کیونکہ جس طرح کسی پل کی تعمیر کے لئے ڈاکٹر اور کسی مریض کے آپریشن کے لئے انجینئر کو ذمہ داری نہیں سونپی جا سکتی بالکل اسی طرح کسی کھلاڑی کو وزارت عظمیٰ بھی سپرد نہیں کی جاسکتی۔ کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی عمران خان کو ہاکی پکڑا کر کسی ہاکی میچ میںاتارنا جتنی بڑی حماقت ہوگی اس سے کئی گنا بڑی حماقت یہ ہوگی کہ انہیں اکیس کروڑ لوگوں کی تقدید کے فیصلے کرنے کا اختیار دیدیا جائے۔ مجھے ان سے ہمدردی اس بات پر محسوس ہونے لگی ہے کہ ناجائز اور جھوٹی تعریف کرنے والے اب ان پر تنقید کرنے لگے ہیں۔ سو جن کی تعریف بھی ناجائز ہو ان کی تنقید کیسے جائز ہوسکتی ہے ؟ عمران خان پر میری شدید تنقید کی دو ہی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ ہیں اور دوسری یہ کہ خود خان صاحب ہی نہیں بلکہ ان کے کارکن بھی سیاست سے شائستگی ختم کرنے کی شعوری کوشش میں رہتے ہیں۔ جس قسم کی زبان اس جماعت کی قیادت اور کارکن استعمال کرتے ہیں وہ بے حد شرمناک ہے۔ واستو کے سنجے دت اور سیاست کے عمران خان کی زبان کا کچھ تو فرق ہونا چاہئے۔ زبان تو اب اس جماعت کی شاید ہی کبھی ٹھیک ہو البتہ ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے تجزیہ کاروں نے راتوں رات جس طرح ان کی تعریف سے تنقید کی قلابازی کھائی ہے اس سے ہرطرف یہ سوال زیربحث آگیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ تو نہیں رہی ؟ ہرچند کہ میری رائے یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کا خاتمہ ہمیشہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ سیاستدانوں نے کیا ہے، خود اسٹیبلشمنٹ نے کبھی ہاتھ نہیں کھینچے لھذا اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہاسٹیبلشمنٹ خان صاحب کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ رہی ہو اور وہ بھی عین الیکشن مہم کے دوران۔ نواز شریف کو حاصل زبردست عوامی حمایت کا سبب ان کی کار کردگی کے ساتھ ساتھ ان کا اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ڈٹ جانا بھی ہے مگر اچھا خاصا حصہ اس میں اس تنقید کا بھی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے تجزیہ کاروں کی جانب سے نواز شریف پر ہوتا آیا ہے۔ سو انہی نام نہاد تجزیہ کاروں کے ذریعے عمران خان پر تنقید کروا کر درحقیقت اس تاثر کو ختم کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کواسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے۔ لیکن یہ کوئی خبر نہیں بلکہ محض تجزیہ اور اندازہ ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے۔ فرض کیجئے کہ اسٹیبلشمنٹ واقعی عمران خان کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لے تو ؟ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یہ عمران خان کی خوش قسمتی کے سوا کچھ نہ ہوگاکیونکہ وزارت عظمیٰ کے وہ اہل ہی نہیں لیکن ان کا شمار سب کی نظر میں ان سیاسی رہنماؤں میں ہونے لگے گا جن کا دل سے احترام کیا جاتا ہے۔ یہ مقام انہیں اس لئے حاصل ہوجائے گا کہ اب وہ ’’فیئر گیم‘‘ کے کھلاڑی شمار ہوں گے۔ وہ جو بھی کر رہے ہوں گے، اپنے دم پر کر رہے ہوں گے نہ کہ کسی ایمپائر کی انگلی کے دم پر۔ انہیں یہ اندازہ ہونا بہت ضروری ہے کہ پچھلے چار سال کے دوران انہوں نے ملک کو ہی نہیں اپنی ذات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ مؤرخ اب ان کے سیاسی باب میں ایک طویل فصل وہ بھی باندھے گا جس کا عنوان ہوگا ’’قصہ ایمپائر کی انگلی کا‘‘ عمران خان کی تاریخ اس کے بغیر اب ہمیشہ نامکمل رہے گی۔ سوال بس یہ ہے کہ کیا اپنی حیات کے باقی دنوں میں وہ کچھ ایسا کر سکتے ہیں جس سے ان کے سیاسی کردار پر لگا یہ بدنما داغ پس منظر میں چلا جائے ؟ سیاست میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔ یہ کھیل ہی ممکنات کا ہے۔ ایک وقت تھا جب ذوالفقار علی بھٹو فیلڈ مارشل ایوب خان کو ڈیڈی کہا کرتے تھے لیکن پھر بھٹو نے اپنی عمر کے آخری دس سالوں میں وہ کچھ کردکھایا کہ آج تاریخ انہیں ایک عظیم رہنماء کے طور پر یاد کرتی ہے۔ بھٹو صاحب کے حوالے سے ایوب خان کا منفی حوالہ بہت ہی کم سننے کو ملتا ہے اور جب بھی ملتا ہے سبب اس کا یہی ہوتا ہے کہ کوئی جیالا بے لگام ہوکر کسی دوسری پارٹی کے سربراہ کی توہین کردے۔ ورنہ عام رویہ یہی ہے کہ لگ بھگ ہر جماعت کے رہنماء اور کارکن بھٹو صاحب کو بہت ہی احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ اسی طرح نواز شریف کا جنرل ضیاء سے تعلق کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔ اس زمانے کی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں سیاسی نظام میں ’’ووٹ کی عزت‘‘ پامال کرنے کے لئے اپنے مہرے کے طور پر ہی استعمال کیا تھا اور میاں صاحب برضا و رغبت استعمال ہوئے تھے۔ وہ بھی اتنا ہی شرمناک تھا جتنا آج کی تاریخ میں عمران خان کا استعمال ہونا ہے۔ لیکن قابل غور پہلو یہ ہے کہ نواز شریف پر جو الزامات سب سے زیادہ لگتے ہیں ان میں سر فہرست یہ الزام ہے کہ ان کی کسی بھی آرمی چیف سے نہیں بنی۔ اگر غور کیجئے تو یہ الزام نہیں بلکہ نواز شریف کو خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے۔ میاں صاحب کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان پر یہ الزام نہیں کہ وہ ہر آرمی چیف کی مان کر اپنا اقتدار کھرا کرتے رہے ہیں۔ کسی بھی آزاد اور خود مختار ملک میں آرمی چیف کا سربراہ حکومت سے بنا کر رکھنا عین آئینی تقاضا ہے۔ اگر کوئی آرمی چیف یا سینئر فوجی کمانڈر اسے پورا نہیں کر سکتا تو سربراہ حکومت کو حق حاصل ہے کہ اسے جنرل میک کرسٹل کی طرح گھر کی راہ دکھادے۔ یہ آئین و قانون کی کس شق یا سیاسی اخلاقیات کے کس صحیفے میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم پر لازم ہے کہ وہ آرمی چیف سے بنا کر رکھے ؟ کیا مہذب دنیا میں یہی ہوتا ہے ؟۔ سو اس بات کا تو نواز شریف کو کریڈٹ حاصل ہے کہ اس کے مخالفین خود اعتراف کرتے ہیں کہ نواز شریف کسی بھی آرمی چیف سے بنا کر نہیں رکھتا یعنی وزیر اعظم ہوکر آرمی چیف کی اطاعت نہیں کرتا جبکہ موجودہ سیاسی صورتحال میں وہ عیش و عشرت والی جلا وطنی اختیار کرنے کے بجائے جبر اور سزا کے لئے خم ٹھونک کر میدان میں کھڑا ہوگیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسے زبردست عوامی حمایت میسر ہے اور مؤرخ بھی انہیں اچھے الفاظ کے ساتھ یاد رکھے گا۔ کیا عمران خان بھی کچھ ایسا کر سکتے ہیں کہ ان کے سیاسی کردار پر ایمپائر کی انگلی سے جو بدنما داغ لگ گئے ہیں وہ دھل جائیں ؟ نواز شریف کی خوش نصیبی یہ تھی کہ وہ تیس برس کی عمر میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب گئے تھے۔ چنانچہ ان کے پاس کفارہ ادا کرنے کے لئے تیس سال تھے۔ اور عمران خان کی بدنصیبی یہ ہے وہ ساٹھ سال کی عمر میں اس چکر میں پڑے سو ان سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ خان صاحب ! جو کہتے ہیں داغ تو اچھے ہوتے ہیں، جھوٹ کہتے ہیں اورآپ کے پاس وقت بھی بہت کم ہے !