لاہور(انٹرویو: قاضی ندیم اقبال )ملک کے نامور علما کرام نے کہا ہے کہ ختم نبوت ﷺ کا تحفظ سیاست نہیں ایمان کا جز ہے ، اسلام امن ومحبت اور اعتدال وتوازن کا دین ہے ۔دین اسلام سے دوری ،خود غرضی ،انانیت ،فساد ، ناجائزقتل وغارت ، ہوس ،مادہ پرستی اور بے جا خواہشات کا شاخسانہ ہے ۔دین اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو انسانیت کا احترام اور دوسرے مذاہب کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔مذہب اور سیاست دونوں لازم وملزوم ہیں ۔جس طرح عقیدہ توحید پر سب کیلئے ایمان لانا ضروری ہے بعینہ اسی طرح حضور اکرم ؐکی ختم نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ جشن آمدرسول ﷺ کے سلسلے میں روزنامہ ’’92‘‘ نیوز سے خصوصی گفتگو میں مہتمم جامعہ نعیمیہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہا طاقت کے ذریعے اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنا احکام شریعت کے منافی ہے ۔ ناموس رسالت ؐاور تحفظ ختم نبوتؐ پوری امت کا مشترکہ اثاثہ ہے ۔ اور اس کی چوکیداری اور پہرے داری ہم سب پر فرض ہے ۔پوری امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ آپ ؐکے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا ہے اور آپ ؐ خاتم النبیین ہیں،سازش کے تحت مذہب کو سیا ست سے دور کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ خطیب بادشاہی مسجد لاہور و چیئر مین مجلس علماء پاکستان مولانا سید عبدالخبیر آزادنے کہا کہ خاتم ُ النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان اور آپ ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ لازوال محبت و اطاعت ، ہمارے دینی تشخص، اجتماعی بقا اور ملّی استحکام کی بنیاد ہے ۔آپ ﷺ کی ختم نبوت پر غیر متزلزل یقین ہمارے ایمان کا ناگزیر جزو، وطنِ عزیز پاکستان کے 21کروڑ سے زائدمسلمانوں کے ایمان کا بنیادی حصّہ، اور تحفظ و ناموس رسالت ہمارا ایمانی فریضہ ہے ۔ خطیب داتا دربار مفتی محمد رمضان سیالوی نے گفتگو میں کہا کہ نبی رحمت ﷺ نے بطور حکمران معاشرتی تحفظات کی ضمانت اور سوشل سکیورٹی کی بہم رسانی کویقینی بنایا،نبی اکرم ﷺ نے زندگی کے ہر شعبے میں مستحکم اصول وتصورات دیکر ایک معتدل اور متوازن نظام قائم کیا ، جس میں ہر شخص کو بنیادی انسانی حقوق میسر تھے ۔ دنیا نبی اکرم ﷺ کے اصول حکمرانی سے روشنی حاصل کرکے کامیابیوں سے ہمکنار ہوسکتی ہے بلا شبہ اسلام امن ومحبت اور اعتدال وتوازن کا دین ہے ۔ متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئر مین مولانا طاہر محمود اشرفی نے گفتگو میں کہا کہ دنیاو آخرت کی کامیابی دین اسلام اور سنت رسول میں مضمر ہے ۔سیرت نبوی پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ۔نبی کریم ﷺ سے عشق حقیقی کا تقاضا یہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ کو کماحقہ اپنایا جائے اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھالا جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اپنے کردار اور اپنی گفتارو اخلاق کریمہ سے دین اسلام کو پھیلایا ،سادگی ا ختیا رکی جائے اور سیرت نبوی ؐ پر عمل کیا جائے تو بہتر او رکامیاب زندگی گزار سکتے ہیں ، اور جناب نبی کریمﷺ نے ہمیں وہ اعلیٰ اخلاق اور زندگی گذارنے کے سنہری اصول دیئے جنہیں اپنا کرہی ہم دنیا کی بہترین قوم بن سکتے ہیں ،جب تک ہم ان اصولوں پر قائم تھے دنیا میں ہمارا ایک مقام تھا اور جب ہم نے ان اصولوں سے انحراف کیا ،دین سے دوری اختیار کی اور مادہ پرستی کی ہوس میں ڈوب گئے ، پھر دنیا میں تباہی وبربادی ہمارا مقدر بن گئی ، اگر دنیا واخرت کی کامیابی چاہتے ہو تو پھر اپنے آپ دین اسلام میں مکمل طور پر ڈھال لو ،دونوں جہانوں کی کامیابی اسی میں مضمر ہے ۔