میں نے وزیری اور محسود کا ذکر پہلی بار اقبال کے ہاں پڑھا۔ وہ بھی شیر شاہ سوری کے حوالے سے۔ سوری ہندوستان کا وہ حکمراں تھا جس نے حکومت مغلوں کے ہاتھ سے چھینی تھی اور اپنے مختصر دور حکومت میں ایسے کارنامے انجام دیے اور حکمرانی کا ایسا طریق اپنایا کہ آج بھی اس کا نام ہماری تاریخ میں روشن ہے۔ یہ برصغیر کے طول و عرض کو ملاتی ہوئی شاہراہ شیر شاہ سوری اسی کی یادگار ہے۔ انگریز نے اسی تصورکو جی ٹی روڈ میں بدل کر ہندوستان کو متحد کرنے کا راستہ نکالا۔ سوری کے حوالے سے یہ نکتہ ہی کافی ہے کہ ہم نے جب انگریز کے ہاتھوں اپنی حکومت گنوائی تو ہماری نظر میں مسلمان حکمرانوں کا مطلب ایک ہی تھا اور وہ تھا مغلیہ سلطنت بالکل جس طرح قرنِ آخر میں خلافت اسلامیہ کا مطلب سلطنت عثمانیہ تھا۔ اس لئے ہماری نظر میں مغلوں کی مخالفت گویا مسلمانوں کی مخالفت تھی۔ اس حوالے سے کہیں طالب علمی کے زمانے میں اقبال کی اس نظم کے بارے میں سوچتا رہتا تھا کہ اقبال نے خوشحال خاں کی تعریف کیوں کی جو یہ کہتا تھا کہ اسے ایسی جگہ دفنایا جائے جہاں مغل شہسواروں کے گھوڑوں کی دھول تک نہ پہنچے۔ ؎ کہوں تجھ سے اے ہم نشیں دل کی بات وہ مدفن ہے خوشحال خاں کو پسند اڑا کر ہ لائے جہاں باد کوہ مغل شہسواروں کی گرد سمند شائد اس وقت یوں لگتا ہو گا کہ یہ مغلوں کے خلاف بات نہیں کر رہا۔ مسلمانوں کے خلاف بات کر رہا ہے اور ہو نہ ہو یہ مسلماں سلطنت کا باغی تھی۔ بعد میں پتا چلا کہ ایسے باغی ہر جگہ تھے حتیٰ کہ صوفیا بھی بادشاہت کے اپنے انداز کے باغی تھے۔ پنجابی صوفیانہ شاعری ہی کو دیکھ لیجیے۔ آپ کو بہت سی باتیں سمجھ آ جائیں گی حتیٰ کہ ہیر وارث شاہ بھی ایک نئے سماجی تناظر میں۔ عرض مجھے یہاں یہ کرنا ہے کہ اس ذہن کے ساتھ جب ہم مغلیہ سلطنت کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے خلاف کامیاب ’’بغاوت‘‘ کا سربراہ شیر شاہ سوری بھی ہمارا ہیرو ہے۔ ہمیں مغلیہ شان و شوکت اور ان کی سلطنت سے محبت بھی شیر شاہ سوری سے دور نہ کر سکی۔ یہی شیر شاہ سوری ایک نکتہ پیش کرتا ہے۔ اقبال نے یہ نکتہ بھی خود بیان نہیں کیا‘ بلکہ محراب گل افغان کے افکار سے لیا ہے۔ اس نام سے بال جبریل میں پورا ایک حصہ ہے۔ اس طرح کا دوسرا کام اقبال نے اپنے دور آخر میں بھی کیا تھا جب انہوں نے ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کے بیاض کو اردو میں بیان کیا تھا۔ یہ صرف دوسروں کے افکارکا ترجمہ نہیں ہے۔ بلکہ ان دونوں جگہ اقبال کی روح ان کی زبان میں بولتی ہے تو عرض یہ کر رہا تھا کہ اقبال نے وزیری و محسود کا ذکر شیر شاہ سوری کے حوالے سے یوں کیا ہے۔ یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سوری نے کہ امتیاز قبائلی تمام تر خواری عزیز ہے انہیں نام وزیری و محسود ابھی یہ خلعت افغانیت سے ہیں عاری اور اس کے بعد پتے کی بات کی ہے: ہزار پارہ ہے کہسار کی مسلمانی کہ ہر قبیلہ ہے اپنے بتوں کا زناری وہی حرم ہے وہی اعتبارِ لات منات خدا نصیب کرے تجھ کو ضربتِ کاری اقبال ملت اسلامیہ کے باطن سے بہت اچھی طرح واقف تھے اور جانتے تھے کہ کہاں کہاں دلوں کے اندر کس کس طرح کی رزم گاہیں سجی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود وہ پرامید تھے کہ ملت اسلامیہ اپنے نصب العین کو بالآخر پالے گی ہم اپنے شمالی خطے کے بارے میں ایک بڑے امتحان سے گزررہے ہیں جو کچھ افغانستان کے اندر ہوا وہ نہ صرف ہماری سلامتی کا معاملہ تھا۔ بلکہ ہماری روح کی کشمکش کا نتیجہ تھا۔ ہم بار بار اپنے فیصلوں پر کبھی ناز کرتے ہیں کبھی ان پر نادم ہوتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ہمیں اپنا گھر صاف کرناہے‘ کبھی کہتے ہیں ہم نے جو کچھ کیا غلط کیا۔ اپنے ملک میں بھی جب سوات کا آپریشن ہوا تو ملک کی بہت کم آبادی کو معلوم تھا کہ فوجی آپریشن کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ کس طرح پوری کی پوری آبادی سے بستیاں خالی کرا لی جاتی ہیں۔ گویا کنگھی پھیر دی جاتی ہے۔ ہم اس سے پہلے آئی ڈی پی کے تصورسے بھی واقف نہ تھے یعنی وہ لوگ جو اپنے ہی وطن میں بے وطن اور بے گھر ہو جاتے ہیں۔ ان بستیوں کے محب وطن باشندوں کو کیسے اپنے ہنستے بستے گھر چھوڑنا پڑے۔ تاہم ہم نے جلد ہی انہیں پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹا دیا یا انہیں ان کے گھر واپس لوٹا دیے۔ ہمارا یہ آپریشن بڑھتا گیا اور ہم نے اپنی سات میں سے بقول جنرل کیانی کے ساڑھے چھ قبائلی ایجنسیوں میں آپریشن کیا۔ ہر آپریشن کے بعد انسانی المیے یا انسانی مواخات کی کئی مثالیں سامنے آتی گئیں۔ کچھ تو وجہ ہو گی کہ ہم ایک مرحلے پر جا کررک گئے۔ اس سے پہلے ہم امریکہ کو بھی للکار چکے تھے۔ ہماری تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ فوج نے امریکہ کے تسلط کو ماننے سے کھلا انکار کیا تھا۔ ہم نے گیری لوگر بل کو ماننے سے انکار کیا جس میں یہ تک تھا کہ کرنل سے اوپر تک کی تقرری کے لئے امریکہ سے مشاورت کی جائے گی اور دوسرے یہ کہ جب ہماری چیک پوسٹ پرحملہ ہوا اور امریکہ نے اپنی غلطی ماننے سے انکار کیا تو ہم نے نیٹو کی سپلائی لائن بند کر دی۔ یہ بہت بڑی جرأت رندانہ تھی۔ پھر ایک وقت آیا جب ہم شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ ہماری سلامتی کا مسئلہ بن گیا تھا۔ دل تو کرتا ہے کہ لمحے لمحے کی داستان رقم کر کے اس کا مرحلہ وار تجزیہ کروں‘ مگر اس کی سکت ہے نہ ہم اس کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن بہت سخت تھا۔ وہ لوگ جو یہاں وقت گزار چکے ہیں‘ اس کی داستان سناتے ہیں تو اپنی فوج کے جوانوں کی ہمت پرداد دینا پڑتی ہے۔ ہم بار بار مشرقی پاکستان کا ذکر کرتے ہیں۔ وہاں بھی اگرچہ ہم نے ہتھیار ڈال دئے تھے تاہم حال ہی میں بھارت کے اس وقت کے کمانڈر مانک شاہ کی یادداشتیں سامنے آ رہی ہیںجس میں موصوف نے پاکستانی فوج کی بے مثال بہادری کا اعتراف کیا ہے۔ جانے کیوں ہم اپنا کام مکمل کرنا نہیں جانتے۔ ہم سب کچھ ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر الزام دشمن پر دیتے ہیں۔ اکثر اوقات گومگو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جیسے اس علاقے میں فوجی آپریشن سے پہلے دو بیانئے تھے‘ مذاکرات کرنا ہیں یا جنگ۔ یہاں تک کہ مذاکرات کا نام لینے والوں کو غدار سمجھا گیا۔ اب جو جنگ پر اکساتے تھے وہ کہاں ہیں۔ وہ آپ کو ان صفوں میں نظر آئیں گے جو آج امن کی بات کر رہے ہیں۔ ایک دن ہم اعلان کرتے ہیں کہ بہت ہو گئی اب ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فوج کے ترجمان کی یہ پریس کانفرنس آرمی چیف کے اس بیان کے بعد ہے جو انہوں نے کسی گیریژن میں دیا ہے۔ ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اب انہیں رعایت دینے کی پالیسی ختم ہو چکی ہے۔ ایک لمبے عرصے سے ہمیں یہی بتایا گیا تھا کہ یہ اپنے ہی بچے ہیں‘ انہیں سمجھایا جا رہا ہے اور یہ کام ہم خود کر رہے ہیں۔ بس ذرا باہر سے مداخلت ہو رہی ہے۔ ایک ہی دن میں افغانستان سے 5ہزار اکائونٹ سوشل میڈیا پر کھل گئے۔ ایسے بھی ہیں جو بھارت سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ مگر ہوا یہ کہ اگلے ہی روز یوں لگا جیسے آرمی چیف نے اپنی حکمت عملی میں ترمیم کی ہے اور دو ٹوک لفظوں میں کہا ہے کہ ہم کسی کے خلاف نہیں‘ کسی تنظیم کے دشمن نہیں صرف چند لوگ گمراہ ہوئے ہیں۔ وہ مسئلہ ہیں۔ لگتا تھا طوفان ٹل گیا ہے۔ پھر انہی لوگوں کی طرف سے قومی اسمبلی میں ایک قرار داد آتی ہے جس میں سابقہ فاٹا کی نشستوں میں اضافہ کیا جاتا ہے اور یہ اضافہ متفقہ طور پر کیا جاتا ہے۔ اور اگلے ہی روز یہ سانحہ ہو جاتاہے۔ یہیں ہم تذبذب کا شکار۔ اب وہ غیر ملکی میڈیا کو عجیب انٹرویو دے رہے ہیں۔ غلطی ہماری ہے کہ ہم نے منصوبہ بندی نہیں کی۔ یہ کہنا کہ فوج نے تو اپنا کام کر دیا۔ باقی سب کچھ اہل سیاست کو کرنا تھا۔ یہ بیانیہ بھی غلط ہے۔ یہ پھر ’’لات منات‘‘ پالنے والی بات ہے۔ ہم اپنے اپنے بتوں کے زناری بن کر رہ گئے ہیں جس طرح ملت ایک ہے۔ اس طرح یہ قوم ایک ہے۔ اس کے سب ادارے مل کر ریاست بنتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے تو اپنے حصے کا کام کر دیا تھا۔ دوسرے نے نہیں کیا۔ اس معاملے میں کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ ہم نے مشرقی پاکستان میں اس طرح الجھے ہوئے رویے کے اثرات دیکھے ہیں۔ ایک آتا تو بتاتا کہ فوجی ایکشن کر کے پاکستان کو بچا لیا گیا ہے دوسرا آتا تو خبر لاتا اس کی شیخ مجیب سے تنہائی میں بات ہوئی ہے۔ وہ پاکستان کو بچانا چاہتا ہے۔ ہم آج تک اس بات پر یکسو نہیں ہیں کہ ہم غداروں کے خلاف لڑے ہیں یا اپنوں ہی کو نشانہ بنایا ہے۔ میں اس وقت عمران خاں سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا مجھے اندیشہ ہے۔ ان کے لئے اصل معاملے کی تہہ تک جانا مشکل ہے۔ مدینے کی ریاست ایسے نہیں بن جایا کرتی اس میں جہاں بدرو حنین کے معرکے ہیں۔ وہاں تدبیر اور تدبر کے کوہ گراں ہیں۔ حدیبیہ بھی ہے جس کا شعور اس وقت بھی کہ لوگوں کو ہوا تھا۔ مگر نور نبوت میں وہ روشن و تاباں تھا۔ ایسی بصیرت اب کوئی کہاں سے لائے۔ مگر حضور نبی کریمؐ کے امتی اگر سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے اپنے گروہی یا اداراتی لات و منات سے بلند ہوکر سوچیں تو راستہ نکل آئے گا۔ جو کشمکش ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئی ہے۔ اس کو یقینا شہ مل رہی ہو گی مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ ان کی بستیاں اجڑ گئیں کاروبار تباہ ہو گیا۔ سر پر چھت نہ رہی اورزمین بارود سے اٹی ہوئی ہے۔ ان کے لئے چلنا بھی دوبھر ہے کوئی قومی بیانیہ بنا لیجئے ‘ کوئی حکمت عملی ترتیب دیجیے اوراسے سیاسی نعرے بازی کی نظر نہ کیجیے۔ خدارا بات کو سمجھ جائیے!