اے مرے دوست‘ مرے ریا کار قاری‘ مرے بھائی! جب سے بزرگوں نے بودیلیئرکی ان لائنوں سے متعارف کرایا ہے‘ اکثر اوقات دن رات ان کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ اچھے دن تھے‘ اب بھی کہاں کے سیانے ہیں ‘ پھر بھی نادانی کے زمانوں میں اس سوال پر غور کرتے عمر گزر گئی کہ آدمی ریا کار کیوں بنتا ہے۔ ویسے استادوں نے تو یہ بتا رکھا تھا کہ زر نہاد معاشرے میں جو شخص ریا کاری سے کام لیتا ہے‘ وہ کم ازکم اعلیٰ تر اقدار کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں بھولتا اور یہ مان لیتا ہے کہ مجھ میں اتنی قوت نہیں ہے کہ مُنفعت پرستی سے اوپر اٹھ سکوں یہ تو پھر اس سے آگے کی بات ہوئی نا۔ اس بارے میں کبھی کسی نے رہنمائی نہیں کی تھی۔ کب سوچا تھا کہ ملک کے سب سے بااثر اور با جبروت ادارے کے اتنے سارے جلیل القدر لوگ کھڑے ہو کر جس وفا داری کا اعلان کریں گے‘ اگلے ہی لمحے خفیہ انداز میں اس وفاداری سے بدل جائیں گے۔ کیا کبھی سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے‘ ملک پر یہ عذاب بھی نازل ہو سکتا ہے۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون جیتا اورکون ہارا۔ مرے لئے جو بات دکھ اورکرب کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ اس بلند تر سطح پر بھی کس کا اعتبار کیا جائے اور کسے وقعت اور اہمیت دی جائے۔ ہر قسم کا بیانیہ بنایا جا سکتا ہے اور ہر بات کے حق میں دلائل دیے جا سکتے ہیں‘ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہم اپنے نام نہاد جمہوری نظام کے ملبے پر کھڑے ہو کر یہ بھاشن دے رہے ہوں گے۔ جب اس معرکے کا اعلان کیا گیا تھا تو دل میں شکوک و شبہات پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ہمارے جیسے نظام سیاست میں صاحبان اقتدار کو کبھی شکست نہیں ہوا کرتی حتیٰ کہ بے نظیر کے خلاف جب چھانگا مانگا تیار ہوا تھا اورفوج کو اپنے دو نہایت افسروں کی قربانی بھی دینا پڑی تھی تب بھی وہ مہم کامیاب نہ ہوئی تھی اور یہاں تو کسی ’’امداد‘‘ کی توقع نہ تھی۔ پھر کس برتے پر یہ تجویزدی گئی اورکس نے دی۔ جس نے دی سب سے بڑا استاد وہی ہے ‘ یا پھر وہ بہت بڑا بھولے بادشاہ ہے‘ اب جوباتیں بھی کہی جا رہی ہیں‘ ان سے کوئی نتائج نہیں نکلیں گے۔ حکومت مضبوط ہوئی ہے نہ حزب اختلاف‘ اس فقرے کو دوبارہ بڑھا لیجیے اور دہرا لیجیے‘ اصل صورت حال یہی ہے۔ حاصل بزنجو نے تو اپنے مزاج کے مطابق آخری بات کہہ دی جو جمہوریت پسند برے سے برے حالات میں بھی نہیں کہا کرتے اور اگر کرنا پڑے تو اشارے کنایوں میں کرتے ہیں۔ اور اس بیانیے کا کھلم کھلا اظہار ایک تکلیف دہ امر ہے اور جو اس کی مخالفت میں شور مچا رہے ہیں‘ انہیں بھی احتیاط کرنا چاہیے۔ یہ تو بات کو مزید فروغ دینے کے مترادف ہے۔ دوسری بات پر غور کر لیجیے۔ یہ بات کہنے سے بھی پارٹی قیادت نے اپنے کارکنوں کو روک دیا ہے۔ خواجہ آصف البتہ کہہ گئے ہیں۔ انہوں نے آصف زرداری پر سارا الزام لگایا ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا زرداری نے تو پہلے کہہ دیا تھا کہ چیئرمین کو لے کر آئے ہیں نہ ہم نکال رہے ہیں۔ ذرا اس فقرے کی ساخت پر غور کریں۔ زبان پھسل جائے تو بھی ماہرین نفسیات اس کے تجزیے کیا کرتے ہیں۔ خواجہ آصف ان لوگوں میں سے ہیں جن کے پیپلز پارٹی سے بہت قریبی تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے اتنی سخت بات کہہ کر حزب اختلاف کی صفوںمیں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ویسے کوئی رضا ربانی سے بھی پوچھ لے کہ انہوں نے سینٹ میں نہ آنے کا اعلان کیوں کیا ہے۔ کیا شکوک ہیں‘ ان لوگوں کو کہنے والے کہتے ہیں‘ کسی نے بغاوت نہیں کی اپنی پارٹی لیڈروں کے حکم کے مطابق چلے۔ خواجہ صاحب نے یہ بھی کہا۔ ہمارے چار پانچ لوگ بھی ٹوٹے ہیں۔ اس بارے میں ادھر ادھر سے باتیں سنی تھیں کہ کسی کو بھی کوئی نوٹس آ سکتا ہے۔ ن لیگ یہی تحقیق کرے‘ کون نوٹسوں کے پریشر میں تھا۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ اپوزیشن کے باہمی اعتماد اور اتحاد کو شدید دھچکا لگا ہے۔ لیکن ساتھ یہ بھی عرض کر دوں کہ حکومت کی مشکلات اس سے کم نہیں ہوئی ہیں اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ ملک میں جمہوریت کے لئے آسانیاں نہیں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ملک میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا‘ اس بار مگر حد ہو گئی۔ ہمدردیاں بدلنے والوں میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ کھل کر اس کا اعلان کرسکیں۔ مایوس اور دل گرفتہ اپوزیشن جمہوریت کے لئے زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ اس ملک میں نظام جس طرح چل رہا تھا‘ ایک بھرم تو قائم تھا۔ اس سے تو یہ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ جب چیئرمین کا انتخاب ہوا تھا تب وفاداریاں بدلنے کا عمل اس طرح کا خفیہ نہ تھا۔ اس سے پہلے سینیٹرز کے انتخابات میں اگرچہ اونچ نیچ ہوئی تھی۔ وہ بھی انتخاب تھا جب 5سینیٹرز والی پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین کے امیدوار بابر اعوان نے 19ووٹ لے لئے تھے۔اس وقت ہی کوئی روک لگائی جاتی بعدمیں پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ میں اپنے سینیٹرز کے ہمدردیاں بدلنے کے مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے لیا تھا اور کارروائی بھی کر ڈالی تھی۔ مرے کام کچھ نہ آیا۔ یہ کمال نے نوازی۔ ہم خوش ہو رہے تھے کہ 18ء کے انتخابات کے بعد کسی نے ہمدریاں نہیں بدلیں۔ حزب اختلاف کے ارکان ڈٹے رہے۔ اگرچہ کہا جا رہا تھا کہ جب ضرورت ہو گی‘ وہ ہمدردیاں بدل لیں گے۔ اس بات کی کسی کے مگر توقع نہ کی ہو گی کہ ہمدردیاں اس طرح بدلیں گے اور وہ بھی سینٹ کے بزرجمہر۔ مجھے ڈر ہے کہ خاکم بدہن لوگ پارلیمنٹ سے باہر دیکھنا نہ شروع کر دیں۔ وہ اپنے مسائل کا حل کہیں اور تلاش نہ کریں۔ کہیں اور سے۔ آپ دور تک نہ جائیں‘ اگرچہ جایا جا سکتا ہے‘ تاہم اس کا ایک سامنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی تبدیلی کے لئے وہ پارلیمنٹ کی قوت پر انحصار کرنا چھوڑ دیں بہت سے لوگ ہیں جو سڑکوں اور گلیوں کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ سیاست دان ناکام ہو چکے ہیں۔ بہت سے ہیں جو کسی بہتر نظام کی بات کرتے ہیں۔ پارلیمانی نہیں کوئی اور نظام یا سینٹ کے انتخابات کا کوئی اور طریق کار یا پارٹی کے سربراہ کی آمریت والی آئینی شق کا خاتمہ۔ ایسے بھی ہیں جو متناسب نمائندگی کی بات پھر کرنے لگیں گے۔ دوبارہ قومی حکومت یا ٹیکنو کریٹ کی حکومت کی بات ہونے لگے گی اوران کی بھی کمی نہ ہو گی جو افواج پاکستان اور عدلیہ سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بات کریں گے اور اگر اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر دل چھوڑ کر بیٹھ گئی تو یہ بھی کوئی مثبت بات نہ ہو گی۔ حکومت بھی اس سارے عمل کو سمجھتی ہے‘ تاہم اس وقت ان کے اندر ایک خاص مائنڈ سیٹ پیدا ہو سکتا ہے جو کسی صورت مفید نہیں ہے اور وہ یہ کہ قومی مقتدرہ(اسٹیبلشمنٹ) کے ساتھ عالمی مقتدرہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ پارلیمنٹ اب ان کی گرفت میں ہے‘ اس لئے وہ من مانی کر سکتے ہیں۔ چاروں طرف اور بالائی سطح پر بھی جمہوریت کی خاطر دبائو ڈالنے والا کوئی نہیں ہے‘ اس لئے وہ ایسی روش اختیار کرسکتے ہیں جسے میں فسطائی تو نہ کہوں گا‘ مگر خالص جمہوری قطعاً نہیں ہے۔ سیاست سے زیادہ ان حالات کا اثر معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ایسا ہوا تو قطار اندر قطار کئی خطرات منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ کاش ہم یہ بات سمجھ سکتے۔مرے پیارے بھائی‘ مرے دوست‘ مرے ریا کار قاری‘کاش ہم یہ بات سمجھ پاتے۔ اگر منفعت پرستی ہی کو خدا بنانا ہے تو بھی یہ خسارے کا سودا ہے۔ خالص خسارے کا سودا۔ کاش ہم یہ بات سمجھ سکتے۔