’ملتان‘ ایک قدیمی و تاریخی سرزمین ہے جس پر سکندر اعظم سے لے کر نواب محمد صادق خان تک نجانے کتنے سلاطین وامراء تخت نشین ہوئے مگر یہ تخت و تاج محدود مدت کے لیے کار آمد اور لائق توجہ رہے ‘ مر ورِ زمانہ کے ساتھ ان کے نام حوالہ ٔطاقِ نسیان اور ان کے نشان بے نشان ہوگئے لیکن اسی سرزمین پر وارد ہونے والے سلسلہ عالیہ چشتیہ کے نیر تاباں ‘مظہر جمالِ الٰہی حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی رحمۃ اللہ علیہ ایسے والیٔ ملتان ہیں جن کی ولایت کاشہرہ دو صدیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اسی طرح مسلّم اور زبانِ زدِ عام ہے کہ جب بھی ’والی ٔ ملتان ‘ کا ذکر آئے توعوام کے اذہان آپ ہی کی طرف متوجہ ہوتے اور خواص کے قلوب آپ کی نیاز مندی میں جھک جاتے ہیں ۔(یہاں یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ زمانۂ قدیم سے ملتان کے کئی ایک نام ہوئے مگر اولیاء کے قدوم میمنت لزوم کی بدولت پڑنے والے نام ’’مدینۃ الاولیاء ‘‘کو جو دوام اورشہر ت حاصل ہوئی وہ کسی اورنام کے حصہ میں نہیں آئی ۔) یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ملتان اسلامی ھند کے آغاز سے ہی سلسلہ سہروردیہ کا مرکز رہاحضرت غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سرزمین پر ایسی عظیم الشان خانقاہ اور ایشیاء کی پہلی اقامتی دینی یونیورسٹی قائم کی تھی کہ ملتان اور منصورہ کاسارا علاقہ آپ کا حلقہ بگوش ہو گیا تھا سلسلہ سہروردیہ کا یہ اقتدار کئی صدیوں پر محیط رہا تاہم اٹھارہویں صدی میں یہاں جس شخصیت نے سلسلہ عالیہ چشتیہ کے فروغ کی داغ بیل ڈالی وہ والی ٔ ملتان’ حضرت خواجہ حافظ جمال اللہ ‘ رحمۃ اللہ علیہ ہی کی شخصیت ہے آپ حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کے عظیم المرتبت خلیفہ ،علم و عمل کی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک‘ جہاں ایک طرف روحانی اور علمی اعتبار سے آپ کا پایہ بلندتھا وہاں دوسری طرف شجاعت و تہور ‘مجاہدانہ جذبات اور سرفروشی میں بھی آپ کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ آپ کا اسم گرامی خواجہ’ حافظ محمد جمال اللہ‘ والد گرامی کا نام’ حافظ محمد یوسف‘ اور دادا کا نام ’حافظ عبدالرشید ‘تھا جو کہ اعوان قوم کے عظیم سپوت تھے ۔آپ کی ولادت 1160ھ بمطابق 1745ء میں ہوئی ۔کم عمری میں ہی حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کی اور داڑھی آنے سے پہلے ہی کتاب ’دائرۃ الاصول‘ تک درسی علوم کی تکمیل کر لی اور اللہ کے فضل و کرم سے شرح صدرکی دولت سے سرفرازہوئے انتہائی ذہین اور ذکی الطبع تھے طالب علمی کے زمانہ سے ہی کوئی آپ کے ساتھ مقابلہ و مباحثہ نہیں کرسکتا تھا۔ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد دل میں شیخ کامل کی مصاحبت حاصل کرنے کا شوق موجزن ہوا جس کے لیے ہر ماہ کی چودہ تاریخ کو خانقاہ ِحضرت شیخ رکن الدین عالم سہروردی رحمۃ اللہ علیہ میں تمام شب اعتکاف کرتے اور کافی عرصہ اس عمل کے جاری رہنے کے بعد ایک رات حضرت شیخ رکن الدین عالم نے خواب میں آپ کو حضرت قبلہ عالم خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کرا کے فرمایا کہ ’’یہی صاحب شیخ نور محمد ہیں ان کا وطن مہار شریف ہے اور یہی آپ کے پیر و مرشد ہیں ان کی خدمت میں جا ئواورشرفِ بیعت حاصل کرو اور نصیبۂ ازلی پائو‘‘ چنانچہ جوں ہی آپ بیدار ہوئے فوراً ًمہارشریف کی طرف چل پڑے وہاں حاضر ہو کر شرفِ بیعت حاصل کیا اور اس موقعہ پر ایک دلچسپ واقعہ یہ پیش آیا کہ حضرت حافظ جمال نے اپنے شیخ کے استفسار پر اپنے آپ کو فقط حافظ قرآن ظاہر کیا مگر وہاں موجود مولوی محمد حسن بہاولپوری نے جب قبلہ عالم کو بتایا کہ ’’حضور یہ بہت بڑے متبحر عالم اور ذکی الطبع ہیں‘ ملتان میں میرے کلاس فیلو رہے ‘مباحثے اور مناظرے میں کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا ‘‘تو قبلہ عالم نے فرمایا ’’حافظ صاحب آپ نے اپنا علم مجھ سے کیوں پوشیدہ رکھا ؟تو عرض کی‘ غریب نواز! مجھے ڈر تھا ‘کیوں کہ میں نے سن رکھا ہے کہ اہل اللہ علماء سے اجتناب کرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضور قبلہ مجھے شرفِ بیعت سے مشرف نہ فرمائیں اس پر حضور قبلہ عالم نے فرمایا’’کارمابہ عالماں است جاہلاں را دریں راہ دخلے نیست ‘کارِما علماء مے دانند جا ہلاں کار مانمی فہمند ‘‘یعنی ہمارا کام تو ہے ہی علماء سے ‘ جاہلوں کو تو اس راستے میں کوئی دخل نہیں‘ علماء ہی ہمارے کام کو بہتر جانتے ہیں اور جاہل ہمارے کام کو نہیں سمجھتے ۔ شیخ کریم سے بیعت کے بعد چند دن ان کی خدمت میں رہ کر واپس دارالامان ملتان ڈیوٹی پر مامور ہوئے اور کچھ عرصہ سخت مجاہدات و ریاضات میں مشغول رہنے کے بعد درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تو دور دراز سے جوق در جوق طلبہ اور گروہ درگروہ علمازمانہ جن کی شہرت چار دانگِ عالم میں تھی آپ کے خوانِ علم پر علوم ظاہری و باطنی کے حصول کے لیے حاضر ہوئے اور صوفیاو اتقیائِعصر آپ کے چشمہ فیض سے سیراب ہوئے ۔ آپ کے علم کی یہ عظمت تھی کہ نہایت ہی دقیق اور مشکل مسائل کے حل کرنے اور سمجھانے میں سب سے فائق تھے علامہ عبدالعزیز پرہاروی لکھتے ہیں: ’’ جب ہمیں کسی مسئلہ میں انتہا ئی مشکل کا سامنا ہوتا خواہ کسی بھی علم سے متعلق ہو آپ اس کی ایسی خوبصورت اور واضح تقریر فرماتے کہ ذہن کے دریچے کھل جاتے آپ شیخ اکبر محی الدین عربی اور علامہ عبدالرحمن جامی کی تصانیف کو حددرجہ محبوب رکھتے تھے ۔نفحات الانس، مثنوی،لوائح،فقرات، اشعۃ اللمعات اور فصوص الحکم نہایت پسندیدہ خاطر تھیں اور ان کا درس جاری رہتا تھاکتب ِو حدتُ الوجود میں سے کوئی کتاب جب کسی مرید یاشاگرد کو پڑھاتے تو ایسے پیچیدہ اور مشکل مسائل آسان انداز میں بیان فرماتے کہ عقل ،ذہن اور فکر متحیررہ جاتے مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے کہ آپ علم کابحرذخار تھے ‘ادنیٰ سے ادنیٰ الفاظ سے قسم وقسم کے علوم اور معانی استنباط کر لیتے تھے ۔اندازِ تدریس ایسا حسین اور دلکش تھا کہ تفصیل سے وضاحت فرماتے اور موضوع کو عام فہم بنا کر مثالوں سے سمجھاتے تھے کہ نہایت کندذہن طالب علم بھی بخوبی سمجھ لیتا تھا ‘‘۔ مسند ِارشادو تدریس کے ساتھ ساتھ آپ میدانِ ضرب و حرب کے بھی شاہسوار تھے اور سکھوں کے محاصرہ ملتان کے دنوں میں آپ اپنے مریدین و تلامذہ کے ہمراہ باقاعدہ تیر کمان اور تلواریں لیے ہر دن اور رات تمام بُرجوں کی بلندیوں پر مورچے سنبھالے ہوئے ڈٹ کر مقابلہ کررہے تھے اور دشمن پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے جس کی تاب نہ لا کر سکھوں کو محاصرہ اٹھانا پڑا اور وہ ناکام و نامراد واپس لوٹے اورآپ کی زندگی میں سکھ ملتان پر قابض نہ ہوسکے ۔ایک مرتبہ سکھوں نے بھر پور تیاری اور زبردست سازو سامان کے ساتھ ملتان پر زور دار حملہ کیا ،لوگوں میں پریشانی پھیل گئی حتی کہ بعض لوگوں نے گھبرا کر ہجرت کر جانے کا اعلان کیا آپ کو معلوم ہواتو آپ نے فرمایا ’’جہاد فرض ہو چکا ہے پس ہم جہاد کے لیے نکلتے ہیں اور آخری دم تک کفار ملعون سے لڑیں گے ہمارے لیے دونوں عاقبتیں محمود ہیں ‘ غزاء یا شہادت (یعنی شہید ہونگے یا غازی بنیں گے )اسی رات کافروں کے نقب کی وجہ سے جب قلعہ کا برج گرا تو وہ کافر جمع ہو کر قلعہ میں داخل ہوئے ہرطرف خوف و ہراس پھیل گیا حتی کہ جو لوگ سب سے زیادہ بہادری اور دلیری کا دعویٰ کرتے تھے وہ بھی کانپنے لگے لیکن آپ دوڑ کر سب سے پہلے وہاں پہنچ گئے آپ کے پاس تلوار اور تیر کمان تھے جن سے آپ نے کافروں کا منہ پھیر دیااور ان کافروں کوقلعے سے نکال باہر کیا‘آپ تیر اندازی اور شمشیر زنی میں مشَّاق و یگانۂِ روزگار تھے لوگوں کو اس کی تربیت بھی دیتے تھے ‘الغرض حضرت حافظ جمال اللّہ ملتانی علمی عظمت ،تدریسی شان ‘جہاد ی کارنامے ‘مذہبی ‘ملی‘دینی اور اسلامی خدمات ‘اتباعِ رسول ‘خوفِ خدا،تقوی و پرہیز گاری ‘جودو سخا ‘خدمتِ خلق ‘انسانی قدروں کی حفاظت ‘ادابِ مشائخ ‘تبلیغِ دین‘اشاعت ِاسلام‘ نفس کشی ‘مجاہدات وریاضات کی کثرت‘ مریدین اور تلامذہ سے شفقت ‘غریبوں سے پیار‘یتیموں اور ناداروں کی سرپرستی ایسی بے شمار صلاحیتوں اور خوبیوں میں انفرادی مقام رکھتے ہیں ،آپ کا وصال مبارک 5جمادی الاولیٰ 1226ھ بمطابق 29مئی 1811ء بروز بدھ بعمر 66سال ملتان شریف میں ہوا اور آپ کا سالانہ عرس مبارک ہر سال کی طرح امسال بھی 3،4،5جمادی الاولیٰ کو بڑے تزک و احتشام سے منایاگیاجس میں راقم الحروف کو عرس مبارک کی افتتاحی تقریب چادر پوشی میں دعا کرانے کی سعادت حاصل ہوئی، الحمدللہ علی ذلک (مآخذ: خصائل رضیہ ،انوار جمالیہ ،مناقب المحبوبین ،گلشن ابرار ،تذکرہ جمال )