مکرمی !ملک بھر میں خودکشی کے رحجان میں تشویشناک اضافہ معاشرے میں پنپنے والے خاموش لیکن انتہائی خطرناک روئیے کی عکاسی کررہا ہے۔ انسانی حقوق تنظیم کے اعدادوشمار دیکھے جائیں تو پتا چلتا ہے ملک میں اوسطا 120 سے 150 افراد ہر ماہ اپنے ہاتھوں اپنی جان لے رہے ہیں۔ بیشتر واقعات میں پھندے سے لٹک کر یا زہریلی دوا پی کر خودکشی کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ خودکشی کے بعض واقعات بعد میں قتل بھی ثابت ہوتے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ چاہے معاشی پریشانی کا ہو یا نامساعد حالات سے نمٹنے میں ناکامی کا، خودکشی کی سب سے بڑی وجہ ثابت ہوتاہے۔ بعض معاملات میں شہریوں کو حکومتی اداروں سے اپنا حق نہ ملنا یا انصاف نہ ملنا بھی خودکشی کاباعث بنتاہے۔ چند واقعات میں لوگوں نے مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بھی انتہائی قدم اٹھایا۔معاشرے میں اپنی زندگیوں کے خاتمے کے رحجان سے نمٹنے کیلئے سائنسی بنیادوں پر حل نکالنے کے علاوہ ایسے معاملات کی تفتیش کیلئے جدید تربیت کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ حکومت بے روزگاری اور غربت میں کمی کر کے بھی خود کشی کے واقعات میں کسی حد تک کمی لا سکتی ہے۔ (عثمان حمید۔اسلام آباد )