اسلام آباد (وقائع نگار) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسلح افواج اور اسکے اہلکاروں پر تنقید کرنیوالوں کیخلاف 2 سال قید اور 5 لاکھ تک جرمانے کی سزاؤں کے قانون کی منظوری دیدی۔ راجہ خرم نواز کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں حکومتی رکن امجد علی خان کی طرف سے پیش کردہ کرمنل لاء ترمیمی بل زیرغور آیا۔ کمیٹی اجلاس میں پیپلزپارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ، مسلم لیگ ن کی مریم اورنگزیب اور ندیم عباس نے بل کی مخالفت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل ملک میں آزادی اظہار کیخلاف استعمال ہوگا، بل کے بارے میں خیبرپختونخوا حکومت مخالفت میں ووٹ دے چکی ، تین صوبوں نے ابھی تک رائے نہیں دی، یہ بل خود ہمارے اداروں کیخلاف ہے ، ہم اپنے اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں تاہم نیک نیتی سے تنقید کو غلط نہیں کہنا چاہیے ، مقدس گائے کیوں بنا رہے ہیں۔وزارتِ قانون حکام نے کہا کہ آرٹیکل 19 آزادی اظہار سے متعلق ہے مگر اسے قانون کے ذریعے ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے ، سیکشن 500 میں ہتکِ عزت کی کارروائی ہے ، مجوزہ قانون کے متوازی غداری کا کیس ہے جو وفاقی اورصوبائی حکومت کرتی ہے ۔وزارتِ داخلہ حکام نے کہا وزارتِ مجوزہ قانون کی توثیق کرتی ہے ۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزارتِ قانون اور وزارتِ داخلہ ایک پیج پر نہیں۔امجد علی خان نے کہا کہ یہ قانون کسی کیخلاف نہیں لایا جا رہا، مجھ سے زیادہ ملک وفوج کا کوئی وفادار نہیں۔ اجلاس میں ووٹنگ کرانے پر 5، 5 ووٹ برابر ہوئے تو چیئرمین کمیٹی خرم نواز نے بل کے حق میں ووٹ دیا اوربل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بل کے تحت مسلح افواج اور اسکے اہلکار جان بوجھ کر کی جانیوالی کسی بھی تضحیک، توہین اور بدنامی سے مبرا ہونگے ، ایسا کرنیوالے شخص کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 اے کے تحت کارروئی ہوگی اور2 سال تک کی سزا، 5 لاکھ تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔ قانون کی خلاف ورزی کرنیوالے کیخلاف سول عدالت میں کیس چلے گا۔