لاہور (نامہ نگار خصوصی،صباح نیوز)لاہور ہائی کورٹ نے چودھری برادران کے خلاف نیب کی جانب سے 20 سال پرانی انکوائری کھولنے کے خلاف دائر درخواست پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی نیب کو آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کردی۔ جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس شہرام سرور چودھری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کیس کی سماعت کی،عدالت کے روبرو ڈی جی نیب پنجاب سلیم شہزاد پیش ہوئے توجسٹس صداقت علی خان نے استفسار کیا کہ بتائیں چودھری برادران کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثے اور غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق انکوائری کب شروع ہوئی؟۔ڈی جی نیب نے بتایا 20سال قبل چودھری برادران کے خلاف الزام پر کام شروع کیا گیا، فاضل جج نے کہا یہ کیا آپ نے کام،کام لگا رکھا ہے ، آپ کو پتہ نہیں عدالت میں کیسے بات کرتے ہیں،کیا یہ کنسٹرکشن کا کام ہے ،یہ لفظ توہین کے زمرہ میں آتا ہے ،اس پر ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے عدالت سے معذرت کرلی۔جسٹس شہرام سرور چودھری نے استفسار کیا کہ آپ کب عہدہ پر فائز ہوئے ؟ڈی جی نیب نے کہا2017ئمیں ڈی جی نیب کے عہدہ پر فائز ہوا۔فاضل جج نے استفسار کیا کہ آپ نے چودھری برادران کے خلاف انکوائری کا معاملہ کب دیکھا ؟ڈی جی نیب کے جواب نہ دینے پر فاضل جج نے کہا کہ مسٹر ڈی جی آپ سیدھی بات کریں آپ کو تو تاریخ ہی یاد نہیں۔لاہور ہائی کورٹ نے بجلی چوری کے جھوٹے مقدے میں پھنسانے پر ہتک عزت کا دعویٰ مسترد کئے جانے کے خلاف تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس چودھری محمد اقبال پر مشتمل بنچ نے نعیم احمد کی دیوانی اپیل پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیاجس میں کہا گیاکہ آج ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں جس شخص پر الزام لگ جائے اسے گنہگار تصور کر لیا جاتا ہے حالانکہ قانون کی نظر میں ایک ملزم تب تک مجرم نہیں ہوتا جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے ، مقدمہ خارج ہونے یا مقدمہ سے بریت کے باوجود بھی فرد معاشرے میں پہلے جیسا مقام ، وقار اور عزت دوبارہ حاصل نہیں کر پاتا، ایک بے گناہ فرد کو ساری زندگی اسی جھوٹے مقدمے کے بد نما دھبے کے ساتھ جینا پڑتا ہے ، پراسکیوشن کے لفظ کی ابھی تک کوئی تشریح اور نہ ہی جھوٹی پراسکیوشن کیخلاف کوئی قانون سازی موجود ہے ۔لاہورہائی کورٹ نے سول کورٹ کو ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے سابق عہدیداروں کیخلاف ہتک عزت کے دعوی پر دوبارہ سماعت کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور فریقین کو آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیدیا۔ماحولیاتی کمیشن کی10صفحاتی رپورٹ کے مطابق محکمہ تحفظ ماحول نے دھواں پھیلانے والی 104 فیکٹریوں کو سربمہر کر دیا۔