چترال میں خیر آباد کے مقام پر دریائے چترال پر 240فٹ طویل ’’پاک اٹلی دوستی پل‘‘ کے نام سے قائم کیے گئے خصوصی پل کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ اس پل سے ہلکی پھلکی گاڑیاں گزر سکتی ہیں۔ پل کی تعمیر سے 450سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے۔ اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع کئی وادیاں اپنی خوبصورتی میں اپنی نظیر نہیں رکھتیں اور سیاحوں کے لیے انتہائی دلکشی اور کشش کا باعث ہیں لیکن یہی وادیاں بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ جس کی وجہ سے انکے مکینوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ پانی کے حصول کے لیے انہیں کئی کئی میل گہری گھاٹیوں اور اونچے پہاڑوں کو سر کرنا پڑتا ہے اور آمدورفت کے راستوں اور پلوں کی سہولت نہ ہونے کے باعث انہیں ایک دوسرے سے ملنے اور اپنی بنیادی ضرورتوںکے حصول کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اطالوی ترقیاتی ادارے کی طرف سے تخفیف غربت پروگرام قابل تعریف ہے جس سے ان علاقوں کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس سلسلہ میں صرف غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے ان علاقوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انہیں ایک دوسرے سے مربوط و منسلک کرنے کے لئے اپنے ذرائع کوبھی کام میں لائے تاکہ ان علاقوں کی پس ماندگی دور ہو سکے۔