حکومت نے 6ارب 37کروڑ روپے کا رمضان ریلیف پیکیج تیار کر لیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹے‘ چینی‘ گھی‘ دالوں سمیت 19بنیادی اشیاء سبسڈی کے ذریعے عوام کو سستے داموں فروخت کی جائیں گی۔ اس وقت ملک میں عوام کو سب سے بڑا درپیش مسئلہ مہنگائی ہے جس کا تدارک ازبس ضروری ہے۔مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کے لئے رمضان پیکیج یقینا ریلیف کا باعث بنے گا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک بھر میں موجود 4ہزار سے زائد یوٹیلیٹی سٹورز پر سستے داموں اشیائے خورونوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اس کی کڑی نگرانی بھی کی جائے کیونکہ حکومتوں کی طرف سے ہر سال رمضان پیکجوں کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن یوٹیلیٹی سٹورز پر ضروری اشیاء کی کمی اور عدم فراہمی کے حوالے سے اعوام کی شکایات دور نہیں کی جا تیں۔ رمضان المبارک کی آمد میں ابھی ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہے حکومت کے پاس اس پیکج کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کافی وقت موجود ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے رمضان المبارک سے پہلے اور اس کے دوران یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیاء کی فراہمی اس طرح کی جائے کہ شہریوں کو تسلسل کے ساتھ ضرورت کی تمام اشیاء ملتی رہیں۔مہنگائی کی موجودہ خطرناک لہر میں اگر حکومت کی طرف سے رمضان المبارک کے دوران اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنا لیا گیاتو کم از کم رمضان المبار ک کے دوران مہنگائی کے مارے عوام کی بہت سی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے گا۔