اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ آٹا، میدہ، سوجی، دال اور کسی کھانے کی آئٹم پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے ،قومی شناختی کارڈ کی شرط سے متعلق بھی غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، شبر زیدی نے کہا کہ اگر آٹے اور میدے پر ٹیکس لگا ہوتا تو اس کا جواب دہ ہوتا، بغیر ٹیکس لگائے روٹی کی قیمت بڑھی تو اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں، اس حوالے سے وزیراعظم سے بات کروں گا۔شبر زیدی نے بتایا کہ گزشتہ رات کراچی کے تاجروں، فیصل آباد چیمبر اور اپٹما کے لوگوں سے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی جس میں زیرو ریٹنگ اورشناختی کارڈ کے معاملے پر مذاکرات ہوئے ، اپٹما کا مطالبہ ہے کہ درآمدی یارن کو ڈی ٹی آر ای کی سہولت دی جائے ۔ چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ کسی سیکٹر کے ساتھ کوئی ڈیڈ لاک نہیں ، سیلز ٹیکس سے متعلق افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جب کہ قومی شناختی کارڈ کی شرط سے متعلق بھی غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں، لوگ شناختی کارڈ کی آڑ لے کر مختلف چیزوں کو کور کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ہم نے تمام چیزوں کو الگ کردیا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ قومی شناختی کارڈ کی شرط صرف سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ 47 ہزار افراد کے لیے ہے لہٰذا شناختی کارڈ کامسئلہ ختم ہوچکا اس پر کوئی مسئلہ نہیں ۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ہم چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم لانے کو تیار ہیں جس سے ان کا شناختی کارڈ کا مسئلہ نہیں ہوگا اور مزید آسانی ہوگی۔موبائل ٹیکس کے حوالے سے شبر زیدی نے کہ کہا کہ بے شمار موبائل ایسے ہیں جو بغیر کسی ڈیوٹی کے امپورٹ ہوئے ، ان کی تعداد لاکھوں میں ہے ، اس طرح کے موبائلوں پر 20 ہزار روپے جرمانہ بنتا ہے لیکن موبائل ڈیلرز اسے 400 روپے کرنے کا کہہ رہے ہیں۔گاڑیوں کے ٹیکس سے متعلق چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ گاڑیوں کے ٹیکس میں ہم نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔گاڑیوں پر ٹیکس صوبوں کا معاملہ ہے ، سیلز ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ، جو ٹیکس میں نے لگایا صرف اس کاجوابدہ ہوں۔